اسلامی_طرزِتربیت 176
اکثر گاؤں دیہاتوں کے امام نماز شروع کرنے سے قبل اللهُ اَک٘بَر کی جگہ اَکبار کہتے ہیں
اکبار کا نہایت شنیع معنی ہے
الله اکبر کا معنی تو ہے الله سب سے بڑا ہے
اور اَکبار شیطان کا نام ہے
فقہ حنفی کی مشہور کتاب مُن٘يَة المُصَلِّى ہے
اگر الله اکبار کہا تو اس کی نماز شروع ہی نہ ہوگی اور اگر نماز کے دوران اکبار کہا تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی کیونکہ اکبار شیطان کا نام ہے
اس کی شرح حلَبة المُجَلِّى میں ہے
ایک قول کے مطابق نماز ٹوٹ جائے گی کیونکہ اکبار ابلیس کے بچے کا نام ہے
دیکھیں کیسا باطل معنی پیدا ہو رہا ہے
ذرا سی غلفت اور بجائے نماز سے ثواب حاصل کرنے کے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو برا کہ آئے
العیاذ باللہ
اسی طرح عموماً عوام کو ایک سورت ضرور یاد ہوتی ہے
قل ھو الله احد
اس کا معنی ہے
تم کہ دو الله ایک ہے
اگر احد کو اھد پڑھا جائے اور اکثر عوام اھد ہی پڑھتی ہے تو معنی بن جائے گا بزدل
معاذ اللہ مسلمان ہو کے کہ رہا ہے الله بزدل ہے
نماز میں پھر کہاں سکون آئے گا
اسی طرح قل کا معنی ہے تم کہ دو اگر تلفظ سے نہ پڑھا اور کل کہا تو معنی ہوگا کھا لو الله ایک ہے
معاذ اللہ
اس وقت مجموعی طور پر مسلمان ذلت و رسوائی کا شکار ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ قرآن کریم کو صحیح نہ پڑھ پانا ہے
اس کے باوجود ڈھٹائی سے دین کے محافظ علماء پر زبانیں دراز کرنا ہے
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنہ فرماتے ہیں
رب قاری للقرآن و القرآن یلعنہ
بہت سے قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے
اس حدیث کی شرح مختلف کی گئی ہے
اولاً قرآن پڑھنے والا قرآن کے فرائض ترک کرتا ہے اور حرام کا ارتکاب کرتا ہے
ثانیاً قرآن کریم کی تفسیر بالرائے کرتا ہے
ثالثاً قرآن کریم کو تلفظ و مخارج کی درستی کے بغیر پڑھتا ہے جیسا کہ اوپر گزرا کہ قُل کو کُل , اَحَد کو اَھَد پڑھتا ہے تو معنی بدل جاتا ہے اس وجہ سے قرآن پڑھنے والے پر لعنت کرتا ہے
قرآن کریم کو صحیح پڑھتے نہیں تو شفاء کیسے پائیں گے
قرآن کریم کو ظاہری بیماریوں اور باطنی امراض کی شفاء ہے مگر اس کے لیئے جو قرآن مجید درست پڑھے
مخارج درست نہیں ہوتے تو نہ نماز میں دل لگتا ہے نہ قرآن پڑھنے میں سرور آتا ہے کیونکہ جدھر سے سکون آنا ہوتا ہے اُدھر سے تو لعنتیں برس رہی ہوتی ہیں
لہذا مخارج درست کریں اور قرآن کریم اور نماز سے شفاء و راحت پائیں!
✍️ #سیدمہتاب_عالم
