اسلامی_طرزِتربیت 152
ناک کٹا گاؤں
سیدی طلحہ بن عبید اللہ کی زوجہ محترمہ انتہائی حسن و جمال والی تھیں اس کے باوجود ان کا لقب جَر٘باء ( قحط زدہ زمین) رکھ دیا گیا
ان میں کوئی عیب , کوئی مرض نہیں تھا بلکہ کہا جاتا تھا کہ یہ اتنی حسین و جمیل تھیں کہ ان کے پاس جو عورت بھی کھڑی ہوتی وہ بد صورت لگتی تھی
تو تمام خواتین ان سے دور رہنے لگیں
اسی وجہ سے ان کا نام جَر٘باء پڑ گیا (یعنی ویران زمین) ان میں نہ ظاہری عیب تھا نہ باطنی عیب تھا پھر بھی لوگوں نے اپنی خود ساختہ غیرت کی وجہ سے عیب والا نام جَر٘باء دے رکھا تھا
(الاصابة فى تمييز الصحابة)
°°° معلوم ہوا کہ لازمی نہیں لوگ جسے چھوڑ دیں وہ عیب دار ہو بلکہ عین ممکن ہے لوگ خود عیب دار ہوں °°°
اور اپنے عیب چھپانے کو کامل و اکمل کو عیب دار مشہور کر رکھتے ہوں
° جیسے ایک گاؤں والوں کی دوسرے گاؤں والوں کے ساتھ لڑائی ہوگئی بڑے گاؤں نے چھوٹے گاؤں کے ہر ہر مرد کی ناک کاٹ دی °
اب وہ ناک کٹا گاؤں اتنا ڈھیٹ و بے شرم ہوا کہ ان کے گاوں میں جو کوئی صحیح سلامت انسان آتا یہ اسے چھیڑتے ہوئے کہتے وہ نَکُّو جا رہا ہے
اوئے نکو ادھر آؤ
ابے او ناک والے
وغیرہ وغیرہ
جملوں سے صحیح سلامت کو رسوا کرتے تھے جبکہ خود ناک کٹے ہوئے تھے
یہی حال کلین شیوڈ کا ہے خود داڑھی کٹوا کر مُخَنَّث بن بیٹھے اور اصیل و کامل مَردوں کو حقارتاً مولوی مولوی کہتے ہیں
الغرض لوگوں کے طعنوں کی پرواہ نہ کریں وہ تو اپنی ذلت چھپانے کو معزز کو عیب دار مشہور کر دیتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
