ماں اور بیوی میں کام تقسیم کر دیں

اسلامی_طرزِتربیت 149

مجمع الزوائد و منبع الفوائد اور سیر اعلام النبلاء میں ہے

مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی والدہ فاطمہ کو کہا
اكفي فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم سقاية الماء والذهاب في الحاجة
آپ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام مثلاً پانی بھرنا اور بیرونی حاجتوں کو پورا کریں گی
وتكفيك خدمة الداخل الطحن والعجن
اور فاطمہ زھراء گھر کے اندر گندم پیسنا اور آٹا گوندھنا کریں گی
یعنی مولا علی نے ساس اور بہو میں کام تقسیم کر رکھا تھا

اس دور میں پانی لانا بہت مشقت کا کام ہوتا تھا
وہاں تو ساس بہو کی لڑائی جھگڑے کا گمان تک نہ تھا مگر کام کی تقسیم آسانی اور آنے والی نسلوں کی تربیت کے لیئے تھی.
جہاں ساس بہو کی نہ بنتی ہو وہاں کام تقسیم کر دیئے جائیں تو 95 فیصد گھر امن کا گہوارہ بن جائے

اس کا ایک اضافی فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری مائیں کام نہ کرنے کی وجہ سے جسم و ہڈیوں کی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں
گھر کا کام بطور ورزش کریں تب بھی صحت بحال رہے گی
اور فضول بیٹھ کر اپنی بیٹیوں کے سسرال سے گھٹنوں کالیں سننا کرنا غیبتیں کرنا یہ سب کافی حد تک کم ہو جائے گا

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top