اسلامی نظام نہ ہونے کی خرابی

اسلامی_طرزِتربیت 145

بیت المال میں چار قسم کا مال ہوتا ہے
(1) صدقات
صدقات اور جو صدقات کے زمرے میں شامل ہے مثلا زکوۃ و عشر وغیرہ
یہ ان پر خرچ کیا جائے گا جس کا ذکر انما الصدقات للفقراء اس آیت کریمہ میں ہے
ہاں مولفۃ القلوب ساقط ہیں
(2) غنائم
یہ جنگوں سب حاصل شدہ مال ہے
یہ یتیموں مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کی جاتی ہیں

(3) جزیہ و خراج
یہ وہ مال ہے جو عشر وصول کرنے والا کفار کی زمینوں سے بطور خراج لیتا ہے یا ان کے تجار سے وصول کرتا ہے
اور یہ مال مسلمان عوام و علماء و مفتیان کرام پر خرچ کیا جاتا ہے
(4) اس میت کا مال جس کا کوئی وارث نہ ہو وغیرہ
یہ طلباء و مسافروں پر خرچ کیا جائے گا

(المسائل البدریہ للعینی جلد 1 صفحہ 133)

سلطنتِ اسلامیہ میں ان چار طریقوں کے سوا بیت المال میں مال کی آمدن کے سوا کوئی طریقہ نہیں ہے
اور سُستی کے مارے حکمرانوں نے صہیونی و عیسائی مشنریز کے بہکاوے میں آ کر یہ بہترین نظام کھو دیا ہے
اس کی چند وجوہات ہیں
اول
کہ مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرنا اور خود زکوٰۃ ادا کرنا مشکل تھا تو یہ اصول بنا دیا کہ ٹیکس لگا دیں جو ہر امیر و غریب پر ہو
مالدار و فقیر حکومت کو دینے میں برابر ہوں مگر سہولیات لینے میں امیر سبسڈی کے نام پر اربوں کھا جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا
دوم
غنیمت تب حاصل ہوتی جب جنگ و جہاد کیا جائے اور اس کے لیئے قوم کے بچوں فحاشی دکھائی گئی بچیوں کو بے حیائی کا عادی بنایا گیا تاکہ کل ان بچیوں کی شادی ہو تو یہ ایوبی و غزنوی پیدا نہ کر سکیں
حکمران بد عمل شرابی و زانی ہوگئے
لہذا غنمیت حاصل کرنے کا باب بھی ختم ہوگیا
سوم
انسانی حقوق کی برابری کے نام پر ذمیوں بلکہ حرںیوں کو وہ حقوق دیئے گئے جو عام مسلمان کو بھی نہیں دیئے گئے
یہاں غیر ملکی باشندے کو دیکھ کر پیشاب خطاء ہو جاتا ہے ان سے خراج وصول کرنا ان کے بس میں کہاں ہوگا
چہارم
اسلامی نظامِ حکومت ہی ختم کر دیا گیا کہ امیروں سے لیکر غریبوں پر خرچ کیا جائے
تو باقی زبردستی ظالمانہ جابرانہ ٹیکس بچتا ہے
جو ہر غریب سے غریب تر بھی اتنا ہی ادا کرتا ہے جتنا امیر ترین ادا کر رہا ہے
بلکہ امیر کو سبسڈی ملتی ہے اور کرپشن بھی کرتا ہے جبکہ ملک کی معیشت کا بوجھ صرف غریب اٹھاتا ہے
یہ سب خرابی اسلامی نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہے
محسوس ہوتا ہے یہاں غریب مالداروں کی تجوریاں بھرنے کے لیئے دن رات کا غلام ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top