اسلامی_طرزِتربیت 133
ملائیشیا میں حج کے دنوں سے پہلے حاجیوں کی تربیت کے لیئے کعبہ شریف کا ماڈل تیار کیا جاتا ہے
اور عملی تربیت کی جاتی ہے تاکہ وہاں جا کر حاجی مناسکِ حج میں غلطی سے بچا رہے
” ابن حزم اور ابن عبد البر اندلسی اور ابن سید الناس جیسے بڑے بڑے علماء سے بھی کتاب الحج لکھتے ہوئے غلطی واقع ہوگئی تھی “
کیونکہ ان علماء نے حج نہیں کیا تھا اس لیئے مناسکِ حج لکھنے میں ان سے غلطی واقع ہوئی
بہر حال یہ عملی تربیت کافی مفید ہے
بہت سے علماء و سلاطین نے اپنی تمام زندگی میں ایک بھی حج نہیں کیا
جس کی وجوھات ہم نے ایک الگ تحریر میں لکھی ہیں
نماز روزے حج جہاد کی عملی تربیت ہونی چاہیئے
اور یہ حکومت وقت کی زمہ داری ہے کہ مسلمانوں کے ملک میں مسلمانوں کی عبادتوں پر خاص توجہ دی جائے
مگر صد افسوس کہ
فحاشی بھرے پروگرام بے حیائی سے بھر پور فنگش فضولیات سے بھرے کھیل کود کے میدان تو حکومت کی سر پرستی میں چل رہے ہیں
مگر دینی ادارے , دینی پروگرام, دینی عبادت کے طریقے سیکھنے سکھانے کے طریقوں پر حکومت ایک آنہ خرچ کر کے راضی نہیں ہے
° فلمی پروڈکشن پر لاکھوں روپے لگا دیتے ہیں مگر مساجد مدارس کے بجلی کے بلز پر ٹی وی ٹیکس بھی معاف نہیں کرتے °
کرکٹ فٹبال پر لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں مگر دینی کتب چھاپنے پر مکمل ٹیکس لیتے ہیں
اوقاف کے زیر انتظام مزارات سے لاکھوں روپے لوٹ لیتے ہیں مگر مزار کے ساتھ دینی ادارے نہیں کھول سکتے
یہ منافق اصلی و اعتقادی ہیں جو دین سے ٹیکس لیکر فحاشی پر خرچ کرتے ہیں
°°° ان سب جرموں کا واحد حل خلافت ہے جس میں دنیا دار ذلیل اور دیندار معزز ہوتے ہیں °°°
جہاں مناصب دینی علوم و فنون کی بناء پر دیئے جاتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

