ڈاکٹر بندر

اسلامی_طرزِتربیت 132

ان تلواروں کو دیکھ پوپ ہنس کر گویا یوں کہ رہا ہے کہ
یہ وہ تلواریں ہیں جن سے تمہارے اجداد نے ہمارے ممالک فتح کیئے تھے
ہم نے ان تلواروں کو ایسا بنا دیا کہ یہ تلواریں اب ہمارے لیئے رقص میں استمعال کر سکتے ہو
یہ تلواریں ہم نے ایسی بے جان کی ہیں جو صرف ہمارا استقبال کر سکتی ہیں ہمارا خون نہیں بہا سکتیں
ہمارے پاس ٹینک گولا بارود بندوق حتی کہ ایٹم بم ہے مگر حکمرانوں جرنیلوں کا حال اس بندر جیسا ہے کہ
جسے جنگل والوں باہم مشورے سے دولت جمع کر کے شہر بھیجا کہ پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بن کر آئے تاکہ جنگل میں کوئی جانور بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کیا جائے
پانچ سال بعد بندر صاحب ڈاکٹر کا لباس پہنے گلے میں ڈاکٹری سامان لٹکائے جنگل میں تشریف لے آئے
پھولوں سے بندر کا استقبال ہوا کہ ہمارے ڈاکٹر آگئے
اگلے ہی دن ریچھ بیمار ہوگیا
بندر کو بلایا گیا کہ اس کا علاج کرو ڈاکٹر بندر صاحب نے کچھ سیکھا تو تھا نہیں کان کھجانے لگا
پھر اچانک چھلانگ مار کر ایک درخت پر چڑھ گیا وہاں سے چھلانگ لگا کر دوسرے پر وہاں سے تیسرے پر یوں چھلانگیں لگا لگا کر نیچے آگیا
اور ایک تاریخی جملہ کہا
°°° بڑی بھاگ دوڑ کی ہے یہ یہاں ٹھیک نہیں ہوگا اسے شہر لے جاو °°°

ہمارے نام نہاد اسلامی حکمران اور ادارے اسی بندر کی طرح اسلام بچانے کی بھاگ دوڑ کر رہے ہیں
اور جب کسی شیر کا ہاتھ پڑا تو وہی دن امید کا دن ہوگا
اور وہ دن ہم ان شاءاللہ ضرور دیکھیں گے
بس ضروت بندروں سے اپنا وطن بچانے کی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top