یومِ تلاق کے لیئے بھی کچھ کریں

اسلامی_طرزِتربیت 81

ایک مفلوک الحال خاتون نے قریشی النسب مالدار آدمی کے محل کا دروازہ بجایا
غلام باہر آیا اور پوچھا آپ کون ہیں؟
خاتون نے کہا میں تمہارے آقا کی بہن ہوں
غلام جانتا تھا کہ آقا کی کوئی بہن نہیں ہے پھر بھی وہ اندر گیا اور مالک کو بتایا کہ آپ کی بہن آئی ہیں

مالک نے اس کو اندر بلایا اور انتہائی پرتپاک انداز سے ملاقات کی اور پوچھا کہ آپ میری بہن کیسے ہیں؟

خاتون نے کہا آدم علیہ السلام کی نسبت سے یعنی مومن سارے انکی اولاد سے ہیں اور بہن بھائی ہیں
اس شخص نے کہا خدا کی قسم یہ رشتہ تو آج کل بالکل ختم ہوچکا ہے میں اس رشتے کو ضرور جوڑوں گا

خاتون نے کہا

یا اخی ربما علی مثلک ان الفقر مر المذاق ومن اجلہ وقفت مع زوجی علی باب الطلاق فھل عندکم شیا لیوم التلاق فما عندکم ینفذ وما عند اللہ باق

یعنی اے بھائی تجھ جیسے کو غربت کے ذائقے کا کیا پتا اور میں اپنے شوہر کے ساتھ اس غربت کی وجہ سے طلاق کے دروازے پر کھڑی ہوں تو کیا آپ کے پاس یوم آخرت کے لیئے کچھ ہے کیونکہ تمہارے پاس جو ہے وہ ختم ہو جائے گا اور اللہ کے پاس باقی رہے گا

{ ان کلمات کی لطافت عربی جاننے والا ہی محسوس کر سکتا ہے }

مالک نے کہا دوبارہ یہ کلمات کہو
خاتون نے دہرائے
مالک نے تیسری بار کہا دوبارہ کہو
خاتون نے تیسری بار یہ کلمات دہرائے
تو مالک نے چوتھی بار کہا پھر کہو
خاتون نے کہا مجھے لگتا ہے آپ کلمات کو سمجھ گئے ہیں اب بار بار دہرانا میری ذلت ہے

مالک نے کہا
خدا کی قسم بات یہ نہیں بلکہ مجھے ان کلمات نے ایسا مزہ دیا کہ بیان نہیں کر سکتا

اگر آپ یہ کلمات ہزار بار کہتی تو میں ہر بار کے بدلے ہزار درھم چاندی کے سکے دیتا

پھر اس نے غلام کو حکم دیا کہ اس خاتون کو دس اونٹنیاں دس اونٹ اور بکریاں یہ جتنی بھی لینا چاہے لینے دو
اور مال و اسباب میں سے جو بھی چاہے اس سے دوگنا دے دو
تاکہ ھم بھی یوم التلاق یعنی قیامت کے دن کے لیئے کچھ جمع کر لیں کیونکہ ہمارا مال ختم ہونے والا اور اللہ کے ہاں باقی رہنے والا ہے

آج بھی ویسے لوگ ہوتے جو یوم تلاق کو یاد کر کے فانی مال کو باقی سے بدل دیتے تو غربت و فاقہ ختم ہو جاتا
غربت کی وجہ سے طلاقیں اور نکاح نہ ہونا ختم ہو جاتا
معاشرہ اچھا ہوتا اور مسلمان خوشحال ہوتے
اچھے لوگ آج بھی ہیں مگر پہلے کے مقابلے میں نہایت کم ہیں
بہترین تو وہ ہے جو کسی کو مانگنے سے پہلے دے دے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top