اسلامی_طرزِتربیت 70
امام ابن الجوزی نے المنتظم میں اپنے زمانے میں حج کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کیا ہے
جب حجاج کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور زمزم کے کنویں سے پانی نکال رہے تھے تو ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اس نے اپنے کپڑے اتارے پھر کنویں میں پیشاب کر دیا
لوگوں نے پکڑا اور خوب مارا اتنا کہ مرنے کے قریب ہوگیا پھر لوگ اسے مکہ کے گورنر کے پاس لے گئے
گورنر نے اسے کہا خدا تجھے برباد کرے تم نے ایسا کیوں کیا؟
اعرابی نے کہا
میں نے یہ کام اس لیئے کیا تاکہ لوگ مجھے پہچان لیں اور میری شہرت ہوجائے اور لوگ کہا کریں یہ فلاں ہے جس نے زمزم کے کنویں میں پیشاب کیا
اس گھناؤنے اور عجیب و غریب فعل کے باوجود اس بیوقوف نے تاریخ میں اپنا نام حماقت کی علامت کے طور پر لکھوا ہی لیا
یہ الگ بات ہے کہ عزت نہیں ملی
اسی طرح
ہمارے زمانے میں بھی احمق اور پیسے کے طالب, شر انگیزی اور فتنہ پروری کرتے ہیں تاکہ شہرت حاصل کریں, سوشل میڈیا ہو یا کوئی اور پلیٹ فارم ہمارے بہت سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہاں تک کہ کچھ بوڑھے لوگ بھی جن کے دماغ نہیں ہیں ٹک ٹاک یا مذہبی ابحاث یا کچھ ایسا کرتے ہیں.
ایسے ہی نوجوان لڑکیاں اپنے ہاتھ’پیر یا آدھے چہرے یا بالوں یا لباس’تصاویر بنا بنا لگاتی ہیں
اور کچھ مذہبی ہوں تو اپنی درسی کتب کی تصاویر لگاتی ہیں اور دستانوں کے ساتھ ہاتھ کی تصاویر لگا کر اپنی تقوی اور اسلامی ذہن ظاہر کرتی ہیں
گویا وہ کہ رہے ہوتے ہیں
ھم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
شہرت کا مرض بہت برا اور خطرناک مرض ہے
یہ ایمان تک چھین لیتا ہے
بندے کو بے شرم بنا دیتا ہے
اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتا ہے
کچھ لوگوں کو سرخیوں میں رہنے کا جنوں کی حد تک شوق ہوتا ہے اس کے لیئے جائز و ناجائز نہیں دیکھتے حتی کہ اپنی اور پورے خاندان کی عزت داؤ پر لگا دیتے ہیں
ایک شخص نے مشہور شاعر متنبی کی ہجو (برائی بیان کی) کی تو متنبی کہنے لگا یہ چاہتا ہے میں اس کی ہجو کروں اور اس کا نام امر (ہمیشہ کے لیئے زندہ) کر دوں
میں ایسا بالکل نہیں کروں گا
ایسے ذہنی مریضوں کا حل یہی ہے کہ ان کو صرفِ نظر (دیکھ کر ان دیکھا) کیا جائے
ان کی حوصلہ شکنی کی جائے
یہ اپنی شہرت کے لیئے اسلام کی مقدسات کو بھی پامال کرنے سے باز نہیں آتے
اگر آپ کے گھر میں یہ حلقہَ احباب میں شہرت کا مریض ہو تو اسے ابھی سے کسی ماہر نفسیات مراد عالمِ دین سے ملاقات کروائیں ورنہ وہ آپ کی عزت خاندان کا وقار مٹی میں ملا دے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
