اسلامی_طرزِتربیت 71
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْغَيْرَةَ عَلَى النِّسَاءِ وَالْجِهَادَ عَلَى الرِّجَالِ ، فَمَنْ صَبَرَ مِنْهُنَّ احْتِسَابًا كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ النِّسَاءِ وَالْجِهَادَ عَلَى الرِّجَالِ ، فَمَنْ صَبَرَ مِنْهُنَّ احْتِسَابًا كَانَ لَهَا مِثْلُ أَجْرِ شَهِيدٍ
اللہ رب العزت نے خواتین کے حصے میں غیرت لکھی اور مردوں کے حصے میں جہاد لکھا
تو جو خاتون ثواب کی نیت سے صبر کرے گی اس کے لیئے شہید جتنا ثواب ہوگا
{ طبرانی شریف }
یعنی عورت خاوند کے حق میں دوسری بیوی کے لیئے غیرت رکھتی ہے
اور اگر خاوند دوسری شادی کر لے اور پھر عورت اس پر صبر کرے اس عورت کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا شہید کو ملتا ہے
اور یہ بات واضح ہے کہ شہید شہادت کے بعد کہتا ھے اے رب مجھے واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ تیری راہ میں پھر قتل کیا جاؤں
کیونکہ شہید کو اس قتل ہونے سے بہت مزہ آتا ھے
تو یہی وجہ ہے کہ عورت بھی دوسری خاتون پر صبر کرنے کی وجہ سے جب مقامِ شہادت پائے گی اور ثوابِ شہادت حاصل کرے گی جنت میں ستر حوریں بطور سوکن برداشت کرنے پر دل و جان سے راضی ہوگی کیونکہ اس سے شہید کا درجہ ملتا ھے
خواتین ہمت کریں گھر بیٹھے شہادت کا مقام پائیں اس سے بڑھ کر کیا خوش نصیبی ہوگی اور کونسا شہادت کا آسان طریقہ ہوگا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
