اسلامی_طرزِتربیت 57
یہ چھوٹا ہاتھی اس وقت رو پڑا جب اس کی ماں نے اسے کسی نامعلوم وجہ سے لات ماری
ڈاکٹر اس کے علاج کے لیے گیا ڈاکٹر یہ سمجھا وہ غلطی سے اس پر چڑھ گئی تھی
وہ بچے کو دوبارہ ماں کے پاس واپس لے آیا
لیکن ماں نے اسے دوبارہ رد کر دیا
اور اسے اپنے سے دور رکھا
چھوٹا ہاتھی متاثر ہوا
اور بغیر رکے پانچ گھنٹے تک مسلسل روتا رہا
ڈاکٹر اس کی پریشانی کا کوئی حل تلاش کرنے میں ناکام رہا
اس نے اسے ڈھانپ دیا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا اور بچوں کی طرح سسکتے ہوئے سو گیا
پھر وہ ہاتھی کا بچہ مر گیا
ڈاکٹر نے ایک جملے میں معاملے کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا
“جیسے کوئی بچہ روتا ہوا اپنی ماں کے پاس بھاگتا ہے یہ بچہ بھی یونہی ماں کے پاس گیا
مگر ماں نے بگھا دیا
بچہ مایوس ہوگیا اور غم میں مر گیا
اگر آپ بھی بچوں والے ہیں تو اپنے بچوں پر ایک حد تک سختی کریں ایک حد تک ناراض ہوں
مگر پھر راضی ہو جائیں ورنہ بچہ مایوس ہو کر آپ سے ہمیشہ کے لئیے ناراض ہوسکتا ہے
کبھی مایوس نہ ہوں , کسی کو مایوس نہ کریں , کسی سے حد سے زیادہ امید مت جگائیں کہ آپ پورا نہ اتریں تو اسے حد درجہ مایوسی ہوگی پھر وہ آپ سے تعلق توڑ لے گا یا دنیا چھوڑ دے گا
جن کی امیدیں آپ سے وابستہ ہیں انہیں کبھی مایوس نہ کریں اور شکر کریں کہ الله پاک نے آپ کو اتنا قابل بنایا ہے کہ آپ سے لوگوں کی خوشیاں متعلق ہیں
جو آپ کے سہارے جیتے ہیں ان کے سہارے مت چھینیں
جو آپ پر اعتبار کرتے ہیں انہیں دھوکہ مت دیں
کسی کو آس دے کے مایوس کرنا گویا پیاس سے مرتے کو پانی دکھا کر نہ دینا ہے
اپنے رویوں سے کسی کو مایوس نہ کریں کم از کم زبانی حوصلہ ضرور دیں ورنہ جان جائے گی اور آپ کی جان پر بن جائے گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
