ہر قسم کا رزق ملے گا

اسلامی_طرزِتربیت 56

ایک آدمی عشاء کی نماز کے بعد بیوی کے پاس گھر آیا
اس نے دیکھا کہ بچے سو گئے ہیں
پوچھا: کیا بچوں نے نماز پڑھی؟
بیوی نے کہا: میرے پاس کھانا نہیں تھا
میں نے ان کو تھپک تھپک کر سلا دیا انہوں نے نماز نہیں پڑھی
شوہر نے کہاانہیں جگا دو
بیوی نے کہا:
اگر آپ ان کو جگائیں تو وہ بھوک سے روئیں گے اور کھانا بھی تو نہیں ہے
شوہر نے کہا سنو
مجھ پر فرض ھے ان کو نماز کا حکم دوں ان کی روزی میرے ذمے نہیں ہے
انہیں جگاؤ
ان کا رزق خدا تعالیٰ کے ذمے ہے
{کیسا ایمان اور کیسا الله کے ساتھ ادب تھا}

خدا تعالیٰ فرماتا ہے

“اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور اس پر صبر کرو، ہم تم سے رزق نہیں مانگتے، ہم تمہیں رزق دیتے ہیں اور اس کا آخرت تو تقویٰ والوں کی ھے(طہ: 132)

ماں نے اندر جا کر بچوں کو جگایا
بچوں نے نماز ادا کی
جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو دروازے پر دستک ہوئی
ایک امیر آدمی دسترخوان اٹھائے ہوئے تھا جس پر انتہائی لذیذ کھانا تھا
مالدار نے کہا اسے اپنے گھر والوں کے پاس لے جاؤ
اس آدمی نے کہا اتنی رات گئے کھانا لائے ہو کیا وجہ ھے؟

امیر آدمی نے کہا
شہر کا ایک رئیس میرے پاس آیا
میں نے اسے یہ کھانا دیا
اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کھاتا ہمارے درمیان جھگڑا ہوگیا اس نے قسم کھائی کہ میں کچھ نہیں کھاؤں گا اور باہر چلا گیا
تو میں نے کھانا اٹھایا اور کہا:
جہاں بھی یہ جائے گا میں کھانا اس کے پاس لے جاؤں گا
خدا کی قسم آپ کے دروازے پر آکر وہ غائب ہوگیا
مجھے لگتا ھے کہ وہ مجھے آپ کے پاس کیا لایا ھے

جب بندہ دل جمعی اور توکل کے ساتھ رب العالمین کی عبادت کرتا ھے تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے
پھر وہ رزق اولاد کی صورت ہو یا مال کی صورت میں ہو یا منصب و شہرت کی صورت میں ہو یا حسن و جمال کی صورت میں ہو
اللہ تعالیٰ ہر قسم کے بند دروازے کھول دیتا ہے

یہ نکتہ سمجھنے کا ہے کہ اولاد کا رزق والدین کے ذمے نہیں ہے کہ حلال و حرام کی پرواہ کیئے بغیر جمع کریں ان کو نماز کا حکم دینا والدین کے ذمے ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top