ہلاکت کے چار مواقع ہیں ہم کسی ہلاکت میں نہیں پڑے؟

اسلامیطرزِتربیت 12

ـــــــ دنیا و آخرت کی سب سے بڑی ہلاکت ــــــ

اللہ رب العالمین نے قرآن کریم میں فرمایا

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ
اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو
❗سورہ بقرہ❗
یہاں ہلاکت سے کیا مراد ہے اس کی مختلف تفاسیر ہیں
پہلا قول
آیت کریمہ کے سباق کے مطابق مراد جہاد میں خرچ نہ کر کے خود کو ہلاکت میں مت ڈالو
تفسیرِ طَبری میں سیدی ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے
تنفق في سبيل الله وإن لم يكن لك إلا مِشْقَصٌ أو سَهمٌ
الله کی راہ میں خرچ کرو اگر چہ تمہارے پاس ایک نیزہ یا ایک تیر ہی کیوں نہ ہو
❗تفسیرِ طَبری ❗
یعنی جو اپنا مال جہاد میں خرچ نہیں کرے گا تباہ ہو جائے گا
جیسا کہ امت اس وقت واضح دیکھ رہی ہے
کثرتِ افراد و کثرتِ اسلحہ کے باجود ذلیل ہیں کیونکہ نہ افراد جہاد میں لگے ہیں نہ اسلحہ جہاد میں استعمال ہو رہا ہے
یہاں ہلاکت کی نسبت ہاتھوں کی طرف کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خرچ کرنے میں ہاتھ کا استعمال ہوتا ہے
تو خرچ نہ کر کے ہاتھ برباد مت کرو یعنی اپنی ذات کو تباہی میں نہ ڈالو
دوسرا قول
ہلاکت سے مراد کارِ خیر میں مال خرچ نہ کرنا ہے
بعض انصار پر معاشی حالت تنگ ہوگئی تو وہ نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے سے بخل کرنے لگے تو ان کو فرمایا نہ خرچ کر کے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو
نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا شریعتِ مطہرہ کو محبوب ہے اور اس سے رک جانا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے

اگر مالدار مساجد و مدارس نہ بنائیں گے تو دین کا کام تعطل کا شکار ہوگا تو اس صورت میں زکوۃ و عشر واجبہ صدقات سے ہٹ کر نفلی صدقات نہ کرنے پر مالداروں کی پکڑ ہوگی

تیسرا قول
ہلاکت میں پڑنے مراد مایوس ہونا ہے
سیدی برا بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہلاکت کی تفسیر میں فرمایا
هو الرجل يُصيبُ الذنوبَ فيُلقي بيده إلى التهلكة يقول لا توبة لي
وہ آدمی جو گناہ کرے پھر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالے وہ یوں کہ کہے میری توبہ قبول نہیں ہوگی
❗تفسیر طَبری❗
یعنی گناہ کر کر کے بخشش و مغفرتِ الٰہی سے مایوس ہو جانا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے
ایک شخص نے امام حسن بصری کی بارگاہ میں عرض کیا
بندے کو شرم نہیں آتی وہ گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے پھر توبہ کرتا ہے
امام نے فرمایا
خدا کی قسم شیطان تم سے یہی تو چاہتا ہے کہ تم مایوس ہو جاؤ
تم ہزار بار گناہ کرو الله رب العزت کی بارگاہ میں توبہ کرو وہ توبہ قبول کرنے والا ہے
مایوسی شیطان کا اتنا خطرناک وار ہے کہ اس کے ذریعے سے بندے کا ایمان چھین لیتا ہے

گناہ کر کے توبہ کرنے والے بندے الله رب العالمین کو بڑے پسند ہیں

حدیث شریف میں ہے
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لهمْ
جس کے قبضہَ قدرت میں میری جان ہے اس کی قسم؛ اگر تم گناہ نہ کرو گے تو وہ تمہاری جگہ ایسی قوم لائے گا جو گناہ کرتی ہوگی پھر اس سے استغفار کرے گی تو وہ ان کو معاف فرما دے گا
❗مسلم شریف❗

کہ وہ غفار ہے
معاف فرمانے والا ہے اگر کوئی گناہ گار باقی نہ رہا تو کسے معاف فرمائے گا؟ لہذا اس کی حکمت کا تقاضا ہے بندے گناہ کریں اور پھر وہ ان کو معاف کرے لہذا گناہ کر کے مایوس نہ ہو جائیں گے وہ معاف نہیں کرے گا بلکہ وہ غفار ہے گناہ بخشتا ہے ستار ہے گناہ چھپاتا ہے
ہاں مگر توبہ کی امید پر گناہ کرنا حماقت ہے کہ ممکن ہے گناہ کے بعد توبہ کی توفیق نہ ملے یا توبہ کا وقت نہ ملے کیونکہ گناہ کی نحوست مزید گناہ کرواتی ہے یوں بندہ تہ در تہ گناہوں میں دھنستا جاتا ہے
اور اگر گناہ ہو جائے تو مایوس ہو کر خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں بلکہ الله رحمن و غفار کی رحمت و کرم پر نظر رکھیں
چوتھا قول
ہلاکت سے مراد
بعض صحابہ کرام سے ثابت ہے تنِ تنہاء جنگ میں جانے پر یہ آیت کریمہ پڑھ کے منع کیا کہ خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو
معلوم ہوا جہاں جانی نقصان ہو وہاں جانا ہلاکت میں ڈالنا اور حرام ہے
اسی طرح بد مذہبوں کے بیانات سننا” ان کی کتب پڑھنا” ان کی محافل و مجالس میں بیٹھنا” ان سے بحث و جدال کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے
کیونکہ ایمان چلے جانے کا خطرہ ہے
ایمان جان سے کروڑ گنا قیمتی دولت ہے

قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا
اے ایمان والو خود کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ
جہاں عدوِ ظاہری [بدمذہب] اور عدوِ باطنی [شیطان] ہو وہاں تنہاء جانا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے جو کہ جائز نہیں ہے

تمام ہلاکتوں کا مجموعہ تمام ہلاکتوں کا انجام تمام ہلاکتوں سے بڑی ہلاکت کفر اور کفر پر موت ہے
ظاہری باطنی ہر ہلاکت کفر تک لے جانے کا راستہ ہے
چھوٹی ہلاکتوں سے بچیں بڑی سے الله بچائے گا

اللھم احینا علی الاسلام و امتنا علی الایمان
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top