دل سے مرحبا کہیں دل سے فی امان اللہ کہیں

اسلامی_طرزِتربیت 11

ملازمت میں برکت کیوں نہیں ہوتی

عربی میں لکھے تین جملے مجھے بڑے پسند آئے گویا میری فطرت کے مطابق ہیں

(1) أن تكونَ وحيدًا خيرٌ لكَ مِن أن تكونَ بديلًا

آپ کا تنہاء رہ جانا کسی کی جگہ پر ہونے سے بہتر ہے

{ یعنی خود مختاری کسی کے قائمقام ہونے سے بہتر ہے مثلاً آپ کو تب موقع دیا جائے جب دوسرا موجود نہ ہو اس بے قدری سے بہتر ہے تنہاء رہیں کسی کے نائب نہ بنیں}
جب تک آپ اپنی قدر نہیں کریں گے دوسرا بھی نہیں کرے گا
عزت و شرف پر سمجھوتا نہیں کیا جاتا

(2) لَا تُجبِر نَفسَك علىٰ أحدٍ ولا تُجبِر أحدًا عليك
کسی پر زبردستی مسلط نہ ہوں نہ کسی کو مجبور کریں کہ وہ آپ کو ترجیح دے
{ اسی سے ملتا جلتا فرمانِ ذیشان حدیث شریف میں ہے لا ضرر ولا ضرار نہ نقصان اٹھانا ہے نہ کسی کو نقصان کرنے دینا ہے }

جو آنا چاہو ہزار رستے نہ آنا چاہو تو عذر لاکهوں
مزاج برہم، طویل رستہ، برستی بارش، خراب موسم

اپنے آپ کو سمندر کی طرح وسیع الظرف رکھیں کہ سینکڑوں دریا آ گرتے ہیں سب کو مرحبا لاکھوں ٹن پانی نکال لیں کوئی شکوہ نہیں بلکہ پرواہ ہی نہیں
ہاں سمندر کی طرح آپ میں کشش و قوت ہونی چاہیے کہ بہتے سب دریا جس کی طرف رخ کرتے ہیں

دنیا میں فتنہ و فساد دو وجہ سے ہی ہوتا ہے
کسی کو شکوہ مجھے دیا نہیں کسی کو شکوہ مجھ سے لیا نہیں
کسی کو شکوہ ہے فلاں میری زندگی میں کیوں نہیں آیا کسی کو شکوہ فلاں کیوں نہیں آیا
وسیع الظرف بنیں آنے والے کو مرحبا جانے کو فی امان اللہ

(3) لا تخشَ الموتَ بل اخشَ الحيَـاةَ بلا حياة

موت سے نہ ڈرو بلکہ اس زندگی سے ڈرو جس میں زندگی نہ ہو
{ یعنی حریت و غیرت” عزتِ نفس و خوداری جس زندگی میں نہ ہو موت سے بدتر ہے}
غلامی گلے میں طوق” پاؤں میں بیڑیوں کا نام نہیں ہے
غلامی گردن جھکا دینے کا نام ہے
کتنے ہی بنگلوں” کوٹھیوں” اربوں کے مالک ہیں مگر غلام بلکہ بدترین غلام ہیں اور کتنے ہی فقیر و تنگدست مگر آزاد بلکہ حریت کے علمبردار ہیں
تجارت میں برکت اسی لیئے ہے کہ اس میں غلامی نہیں جبکہ ملازمت میں غلامی کی ایک نوع ہے یہی وجہ ہے
ملازم لاکھوں تنخواہ لیتا ہو محتاج ہے روتا دھوتا رہتا ہے جبکہ چھوٹا سا کاروبار کرنے والا خود مختار مرضی کا شہنشاہ ہے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top