اسلامی_طرزِتربیت 7
ایک آدمی کی دو بیٹیاں تھیں
اُس نے ایک کی شادی کسان کیساتھ کر دی دوسری کی شادی کمہار کے ساتھ کر دی
کچھ عرصے بعد باپ ملاقات کے لیئے کسان کی بیوی کے پاس گیا
پوچھا بیٹی کیا حال ھے
بیٹی نے کہا بابا اللہ کا شکر ھے
میرا شوہر قرض لیکر زمین پر فصل اگاتا ھے اگر بارش آجائے تو ہزار خیر اگر بارش نہ آئے تو نقصان ہوجاتا ھے
پھر وہ آدمی دوسری بیٹی کے پاس گیا
پوچھا بیٹی کیا حال ھے
بیٹی نے کہا بابا اللہ کا کرم ھے
میرا شوہر قرض لیکر مٹی لاتا ھے اور اُس کے برتن بنا کر دھوپ میں سکھاتا ھے
اگر تو دھوپ نکلی رہے تو ہزار فائدہ اگر بارش آجائے تو ہماری ہلاکت ہوجاتی ھے
شوہر واپس گھر گیا بیوی نے پوچھا سنائیں ہماری بیٹیوں کا کیا حال ہے
شوہر کہنے لگا
اگر بارش آئے تب بھی شکر ادا کرو اگر بارش نہ آئے تب بھی شکر ادا کرو
یہ دنیا ایسی ھے کہ اِس میں ایک شے کسی کے لیئے فائدے مند تو وہی شے دوسرے کے لیئے نقصان دہ ہوتی ھے
نسیمِ صبح خوابیدہ گُلوں سے کھیلتی ہوگی
کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی
حدیث قدسی کا خلاصہ ھے کہ
میرے کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر اُن کو مال و دولت دوں تو وہ میرے منکر ہو جائیں کافر ہو جائیں اور کچھ بندے ایسے ہیں کہ اگر اُن سے مال و دولت واپس لے لوں تو وہ کافر ہو جائیں
یعنی غریب کو مال ملے تو وہ سرکش ہو کر کافر ہو جائے
امیر سے دولت چھین لی جائے تو وہ نا شکرا ہو کر کافر ہو جائے
حکیمِ مطلق خلاقِ عالَم کو سب سے بہتر پتا کہ کس کو کہاں کس درجہ میں رکھنا ھے
لہذا جس مقام پر ہیں شکر ادا کرتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
