مسواک اور برش کی تاریخ

اسلامی_طرزِتربیت 2

_ اعلی و ادنی میں گھٹیا اختیار کرنے والے _

الله رب العزت ارشاد فرماتا ہے

قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَىٰ بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ ۚ
کیا تم ادنی چیز کو بہترین کے بدلے میں لینا چاہتے ہو

عقل والوں کے لئیے کھلا آفاقی پیغام ہے
عمومِ بلوی یا عرفِ عام کا بہانہ بنا کے آپ جواز پیدا کر سکتے ہیں مگر سنت میں پوشیدہ ہزار ہا حکمتیں بے شمار فائدے اور کثیر ثواب ہرگز حاصل نہیں کر سکتے

بعض علماءِ اسلام نے فرمایا
برش سے سنتِ نظافت ادا ہو جاتی ہے جبکہ وہ یہ بھول گئے بدعت سنت کا قائمقام نہیں ہو سکتی
بلکہ جو سنت کو مٹائے وہی تو بدعت ہے اس کی نحوست ہوتی ہے برکت نہیں
امام اھل سنت شیخ الاسلام و المسلمین احمد رضا خان بریلوی نے فرمایا
مسواک ترک کر کے برش استعمال کرنا حماقت و دل کے مرض کی نشانی ہے
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی الله عنہ کا فرمان ہے
ما يأتي على الناس من عام إلا أحدثوا فيه بدعة وأماتوا فيه سنة حتى تحيا البدعة وتموت السنن
لوگوں پر نیا سال آئے گا تو ہر سال وہ نئی بدعت ایجاد کر لیں گے اور سنت کو مٹا دیں گے حتی کہ بدعت پیدا ہوتی جائے گی اور سنتیں مرتی جائیں گی
دوسری روایت میں ہے
لا يحدث رجل بدعة إلا ترك من السنة ما هو خير منها
آدمی کوئی بھی بدعت ایجاد کرتا ہے تو اس سے بہتر سنت مٹا دیتا ہے
❗الاعتصام للشاطبی ❗
مسواک ترک کر کے کیمیکل سے بھرپور ٹوتھ پیسٹ اور برش استعمال کرنا برا ہی تو ہے
وہ علماءِ اسلام یہ بھول گئے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعقلُ الناس و اعلمُ الناس و ارشد الناس ہیں
حضور ثقافتوں تہذیبوں کے بارے سب سے بہتر جانتے ہیں
زمانہ نبوی میں اور اس سے پہلے برش اور دانتوں کی صفائی کے لیئے مختلف قسم کی معجونیں استعمال ہوتی تھیں
ہمارے کامل و اکمل نبی صلی الله علیہ و سلم نے وہ ایک طرف کر کے انفع الناس شے کا انتخاب فرمایا وہ ہے مسواک تو آپ کس بناء پر برش استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں
وہ بھی اس شے کی جسے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے قابلِ استعمال نہ جانا ہو
قدیم مصری اور بابلی لوگ انڈے کے چھلکوں جانوروں کی ہڈیوں سے معجون تیار کرتے اور درختوں کی چھال ملا کر ٹہنیوں سے برش بنا کر دانت صاف کرتے تھے
قدیم ہندوستانی لوگ بھی اسی طرح دانت صاف کرتے تھے
1600 قبل از میلاد کے چینی لوگ خوشبو دار درختوں کی ٹہنیوں کا عرق نکال کر دانتوں پر لگاتے تھے تاکہ بو ختم کی جائے
سب سے پہلے چینی لوگوں نے سور کی گردن کے بالوں سے برش بنایا پھر 1780 میں یورپی لوگوں نے سور کی جگہ گھوڑے کے بالوں سے برش بنایا
الغرض زمانہ نبوی میں اور اس سے پہلے کچھ اقوام مسواک بھی استعمال کرتی تھیں جساکہ مصری و بابلی لوگ اور کچھ اقوام معجون کے ذریعہ دانت صاف کرتی تھیں جیساکہ چینی اور ہندی لوگ وغیرہ
تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ طریقہ اختیار فرمایا جو فطری تھا اور ضرر رساں نہیں تھا
جس طریقہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی طریقوں میں سے اختیار فرمایا پھر اسے چھوڑ دینا حماقت نہیں تو کیا ہے؟
اس وقت برش معجون دیگر طریقے تھے امت کو سب سے بہترین طریقہ دیا
اب امت سمجھتی ہے یہ نئی چیز ہے اختیار کر لیں تو بھی حرج نہیں کم از کم سنتِ نظافت تو ادا ہو جائے گی
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اختیار کردہ شے کو دل و جان , عقل و روح سے تسلیم کر لینا ہی عافیت ہے یہی ایمان ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top