اپنے پڑوسی بیچ دیں

اسلامی_طرزِتربیت 1

کتا محبت میں منافقت نہیں کرتا

تفصیل الکلاب علی کثیر ممن لبس الثیاب
(یعنی کتوں کی افضلیت ایسے بہت سے لوگوں پر جو لباس پہنتے ہیں)
میں ابن مرزبان نے لکھا سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا فرمان منقول ہے

كلب أمين خير من إنسان خؤون

امانت دار کتا بد دیانت انسان سے بہتر ہے

امام شعبی کا فرمان ہے

خير خصلة في الكلب أنه لا ينافق في محبته
کتے میں سب سے بہترین خصلت یہ ہے کہ وہ محبت میں منافقت نہیں کرتا
انتھی

جبکہ بے شمار رشتہ دار, پڑوسی, دوست احباب, تعلق دار محبت میں بھی منافقت سے کام لیتے ہیں

اور بندے کا مال نہ ملے خیانت کرنے کو تو عزت میں خیانت کرتے ہیں یعنی غیبت, چغلی, بدگمانی وغیرہ کرتے ہیں

ابو جھم عدوی کے پڑوس میں سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ رہتے تھے (صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم)
ابو جھم عدوی نے ایک لاکھ دینار کا گھر بیچا اور خریدنے والوں کو کہا یہ تو گھر کی قیمت ہے اس کا پڑوس کتنے میں خریدو گے؟

انہوں نے کہا بھلا کوئی پڑوس بھی بیچ سکتا ہے؟

کہا یہ اپنے پیسے پکڑو میرا گھر مجھے واپس دو

خدا کی قسم میں ایسے شخص کا پڑوس نہیں چھوڑوں گا کہ اگر میں غائب ہو جاؤں تو میرے بارے پوچھتا ہے
اگر مجھے دیکھے تو مرحبا کہے
اگر میں گھر نہ ہوں تو میرے گھر کی حفاظت کرے
اگر میں کچھ مانگوں تو مجھے دے
اگر نہ مانگوں تو مجھے خود بلا کر دے
اگر میں کسی مصیبت میں پڑوں تو مدد کرے
جب یہ بات سیدنا سعید بن عاص کو بتائی گئی تو آپ نے ایک لاکھ درہم ابو جھم کو تحفے میں بھیج دیا

اللہ اللہ کیسے بے مثل و بے مثال پڑوسی تھے کیسی سخاوت تھی

صحابہ کرام کو پڑوسیوں کے حقوق کا بہت اچھی طرح پتا تھا اور وہ حضرات ذرہ بھر بھی پڑوسیوں کے حقوق میں کوتاہی نہیں کیا کرتے تھے

ابو الاسود دوئلی مولا علی کے شاگرد تھے
ان کے پڑوسی عقیدے میں مخالف ہونے کی وجہ سے رات کو ان کے گھر پتھر پھینکتے تھے اور صبح کہتے اللہ تعالیٰ تمہیں سنگسار کر رہا ہے

وہ فرماتے تم جھوٹ بکتے ہو بلکہ تم خود پتھر پھینکتے ہو اگر اللہ کی طرف سے ہوتے تو میں ہلاک ہو چکا ہوتا

اسی وجہ سے انہوں نے اپنا گھر بیچ دیا

لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے گھر بیچ کیا
فرمایا نہیں بلکہ میں نے پڑوسی بیچ دیئے ہیں

اس کے بعد برے پڑوسیوں کی وجہ سے گھر بیچنے پر محاورہ بن گیا کہ میں نے پڑسی بیچ دیئے

بخاری میں حدیث پاک ہے
ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورِّثه
جبریل مجھے پڑوسیوں کے بارے وصیت کرتے رہے کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑسیوں کو وراثت کا حقدار بنا دیں گے

پڑوسی اگر مسلمان ہے تو اس کے دو حق ہیں حقِ مسلم اور حقِ پڑوس
اگر رشتہ دار ہے تو تین حق ہیں حقِ قرابت حقِ پڑوس حقِ مسلم
اگر غیر مسلم ہے تو ایک ہے حقِ پڑوس

مگر بعد پڑوسی ایسے ہوتے ہیں کہ امانت میں خیانت کی کثرت کرتے ہیں
اور وہ کتے سے بدتر ہوتے ہیں

کیونکہ ایسے لوگ منہ پر یوں ہوتے ہیں گویا ہم پر قربان ہو جائیں مگر پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہیں

مگر ہم پر دو باتوں میں ایک بات لازمی ہے یا تو پڑوسی بیچ دیں یا ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں

برے کے ساتھ برا بننا اچھائی نہیں ہے
اور جو ایسی منافقانہ محبت کرتے ہیں ان کی نہ دنیا میں عزت ہے نہ آخرت میں ہوگی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top