معلم کے آداب

ذاتی_مطالعہ 12

ہارون بن عبد اللہ نے فرما
رات کے پہر امام احمد بن حنبل نے میرا دروازہ بجایا میں نے پوچھا
کون
فرمایا
احمد
میں تیزی سے بھاگا مصافحہ کے بعد میں نے عرض کی خیریت ہے
رات میں تشریف لائے ہیں ؟ فرمایا
میں دن میں آپ کے پاس سے گزرا تو دیکھا آپ خود چھاؤں میں بیٹھے تھے اور لوگ سورج کی تپش میں تھے
آپ ان کو حدیث پاک بیان کر رہے تھے
آئندہ ایسا نہ کرنا, جب بھی بیٹھنا تو لوگوں کے ساتھ ہی بیٹھنا
معلم کے آداب میں سے ہے کہ امتیازیت و انفرادیت نہ چاہیئے
{ المناقب لابن جوزی }

حدیث مبارکہ میں خود آیا کہ علم سیکھنے والوں کے سامنے عاجزی اختیار کرو
علماء عوام میں وعظ کریں تو بے شک عالیشان نشست ہو مگر جب طلباءِ علمِ دین کو سبق پڑھائیں تو نبوی بیٹھک بیٹھیں یہی بہتر ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top