روح کا بوجھ

لطائفِ_علمیہ 121

خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍ
ہم نے انسان کو مشقت میں رہتا پیدا کیا

انسان غم در غم میں پِسا ہوا ہوتا ہے
تہ در تہ غموں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے

فکرِ معاش بد بَلا ہولِ معاد جاں گزا
لاکھوں بلا میں پھنسنے کو رُوح بدن میں آئی کیوں

غموں کو سہتے سہتے سراپا غم ہو جاتا ہے
پھر جو اشک بہتے ہیں وہ جلا دینے والے ہوتے ہیں
میرے اشک بھی ہیں اِس میں یہ شراب اُبل نہ جائے
میرا کام چھونے والے تیرا ہاتھ جل نہ جائے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top