تاریخِ_اسلامی 69
وہ امام جن کے زندہ ہوتے ہوئے ان کی کھال اتاری گئی
منگولوں سے زیادہ اسلام کو نقصان رافضیوں نے پہنچایا ہے
منگول ایک صدی بھی باقی نہ رہ سکے وہ آئے چھائے اور پھر مسلمان ہوگئے
جبکہ رافضی اول صدی سے آج تک مختلف صورتوں , ناموں , پردوں میں آتے رہے ہیں اور اسلام کو اندر سے کمزور کرتے رہے اور کر رہے ہیں
اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر ہے کہ منگولوں جیسی مصیبت مسلمانوں پر لانے والا بھی رافضی ہی تھا
جس کا نام مؤید الدین ابن علقمی تھا اور یہ عباسی خلیفہ کا وزیر تھا اور یہ رافضی تھا
اسی نے خط لکھ کر منگولوں کو بغداد پر حملہ کرنے پر ابھارا تھا
قرامطہ, باطنیہ, اسماعیلیہ, موحدین, فاطمیہ ,صفویہ یہ سب رافضی تھے
°°° انہوں نے کوئی غیر اسلامی ملک فتح نہیں کیا بلکہ سنیوں کے قائم کردہ ممالک میں گٹھ جوڑ کر کے اسلامی سلطنت ختم کر کے رافضی سلطنت قائم کی ان میں سے بدترین لوگ فاطمی تھے °°°
فاطمیوں نے جب بیت المقدس پر حملہ کیا تو وہاں سے علماء و صلحاء ھجرت کرنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ انہوں نے عوام کو مجبور کیا کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان کو گالیاں دیں اور ان پر لعنتیں بھیجی
ان بھاگنے والوں میں امام محدث فقیہ ابو بکر محمد بن احمد الرملی شہید جو ابن نابلسی کے نام سے مشہور ہیں وہ بھی تھے
یہ رملہ سے دمشق چلے گئے
وہاں کے حاکم نے ابن نابلسی کو پکڑ کر لکڑی کے پنجرے میں قید کر دیا اور رمضان کے ماہ میں مصر بھیج دیا
وہاں پر فاطمیوں کے بڑے نے ابن نابلسی کو کہا
کیا آپ نے ہی کہا کہ
اگر آدمی کے پاس دس تیر ہوں تو اس پر واجب ہے وہ نو تیر صلیبیوں کو مارے اور ایک تیر فاطمیوں کو مارے؟
آپ نے فرمایا نہیں
بلکہ میں نے تو یہ کہا جس کے پاس دس تیر ہوں وہ دس کے دس فاطمیوں کو مارے
کیونکہ تم نے دینِ اسلام کو بدل دیا اور صلحاء کو شہید کر دیا اور دین میں وہ داخل کر دیا جو دین کا حصہ نہیں ہے
تو اس نے حکم دیا مسلسل دو دن کوڑے لگائے گئے
تیسرے دن مسلمان جلادوں کو زندہ ابن نابلسی کی کھال اتارنے کا کہا مگر کوئی نہ مانا پھر ایک یہودی جلاد لایا گیا
وہ زندہ امام نابلسی کی کھال کھینچنے لگا یہاں تک وہ چہرے تک پہنچ گیا
مگر اپ صبر کے ساتھ ذکر الہیٰ کر رہے تھے یہاں آکر اس یہودی جلاد کو رحم آیا تو اس نے سینے میں چھری گھونپ کر شہید کر دیا
(یہودیوں کو مسلمانوں پر ایسا ہی رحم آتا ہے کہ مکمل کھال اتار لینے بعد ترس کھاتے ہیں)
پھر آپ کی لاش کو قاھرہ کے دروازے پر لٹکا دیا گیا
سیر اعلام النبلاء میں امام ذھبی نے فرمایا امام دار قطنی جب بھی ابن نابلسی کا ذکر کرتے تو رو پڑتے تھے
اور فرماتے جب انکی کھال اتاری جا رہی تھی تو وہ یہ آیت پڑھ رہے تھے
كَانَ ذَلَكَ فِي الكِتَابِ مَسْطُوراً
یہ سب کچھ کتاب میں لکھا ہوا ہے
روافض کا جب بھی ہاتھ پڑے گا وہ چن چن کر سنی علماء و صلحاء کو شہید کریں گے اور مساجد کو ویران کریں گے
لہذا ان سے کوسوں دور رہا جائے اور سلام و کلام نہ کیا جائے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
