حکمرانوں کو کونسا غصہ آتا ہے؟

تاریخِ_اسلامی 68

جب عباسی خلیفہ معتصم باللہ کو غصہ آیا اس نے عموریہ شہر فتح کر لیا
جب محمد بن قاسم کو غصہ آیا اس نے سندھ فتح کر لیا
جب سلطان محمود غزنوی کو غصہ آیا اس نے سومنات فتح کر لیا
جب سلطان محمد فاتح کو غصہ آیا اس نے قسطنطنیہ فتح کر لیا
جب سلطان ایوبی کو غصہ آیا اس نے بیت المقدس فتح کر لیا
جب طارق بن زیاد کو غصہ آیا اس نے اندلس فتح کر لیا
جب سلطان سلیمان کو غصہ آیا اس نے بلغاریا فتح کر لیا

مگر جب ہمارے جرنیلوں کو غصہ آیا تو صرف ایک ترانہ جاری کر دیتے ہیں
تاریخ میں ایسی بہادری کا مثالیں نہیں ملتی
فتح والا غصہ مومنین کا غصہ ہے اور ترانوں والا غصہ منافقین کا غصہ ہے
اپنی ذات کے لیے غصہ کرنا قوم کے قائد کی شان نہیں بلکہ ملت کے لیئے غصہ کرنا قائدانہ خوبی ہے
اسلام دفاعی نہیں جارحانہ فکر دیتا ہے کہ دفاعی حالت نہایت مجبوری میں اختیار کی جائے ورنہ شیر کی طرح ہمیشہ آگے بڑھ کر حملہ کرنے کا حکم ہے کیونکہ زمین اللہ کی ہے تو اس پر وہی زندہ رہے گا جو اس کو مانے گا یا اس کی مانے گا یعنی جزیہ دے کر زندہ رہے گا
ہمارا سادہ سا اصول ہے
اسلام قبول کرو
یا پھر جزیہ دے کر زندہ رہو
یا پھر جنگ کرو
و بس

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top