پیشاب پینے والے بدو کو وہ بات سمجھ آگئی جو محدثین کو نہ آئی

تاریخِ_اسلامی 67

سیر اعلام النبلاء میں امام ذھبی نے فرمایا
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا انتقال بتیس ھجری میں ہوا انکی نماز جنازہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے
پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا
اور ان کی قبر مبارک پر آج ایک عظیم قبہ یعنی گنبد موجود ہے

امام نووی تھذیب الاسماء میں فرماتے ہیں
سیدنا عقیل بن ابی طالب کا انتقال خلافتِ معاویہ میں ہوا آپکی بینائی جاتی رہی تھی
آپ کی قبر مشہور ہے اس پر ایک قبہ موجود ہے
تھذیب الاسماء میں ہی ہے
ابراھیم بن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک بقیع پاک میں ہے اور اس پر قبہ ہے
تاریخ الاسلام میں امام ذھبی نے فرمایا
تین سو چھیاسی ھجری میں اھل بصرہ نے دعویٰ کیا کہ ایک پرانی قبر کھل گئی
اس میں انہوں نے ایک تازہ میت دیکھی
وہ سیدنا زبیر بن العوام تھے لوگوں نے نکال کر کفن دیا اور مربد نامی مقام میں دفن کر دیا
اور اس پر عمارت بنائی یعنی ایک گنبد تعمیر کیا اور قندیلیں,قالین وہاں لا کر رکھے گئے!
ان سب سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام اور اولیاء کرام کی قبروں پر مزار بنانا صدیوں سے مسلمانوں کا طریقہ ہے اور محدثین امام ذہبی امام نووی جیسے اکابر علماء نے اس بارے لکھا اور منع نہ کیا نہ رد کیا
پھر جو بات امت کے ستون جیسے علماء کو سمجھ نہیں آئی وہ عرب کے ان بدوؤں کو آگئی جو اونٹ کا پیشاب شوق سے پیتے تھے
اور جب ان کا ہاتھ پڑا تو انہوں نے صدیوں سے قائم اسلامی عمارتوں کو بدعت کہ کر شہید کر دیا
اور جدید بدو کہتے نظر آتے ہیں کہ حرمین شریفین میں کسی قبر میں کوئی گنبد نہیں ہے
احمقوں نے تاریخ نہیں پڑھی اگر نہیں پڑھی تو زیر تصویر دیکھ لیں کہ کیسے جنت البقیع میں صحابہ کرام کی قبروں پر گنبد قائم تھے
صدیوں پہلے کے مسلمان اور ان کے ائمہ محدثین و فقہاء نے گنبد بنائے بنوائے اور رد نہ کیا یہ بدو نیا دین لائے ہیں جو انہوں نے قبورِ صحابہ و امہات المؤمنین کی بے حرمتی کی ہے
اور جب امام الانبیاء جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک قبر پر گنبد ہے تو مزید دلیل کی کیا حاجت؟
✍️سیدمہتاب_عالم#

Scroll to Top