تاریخِ_اسلامی 59
مشہور باطنی سائنسدان
شیخ محی الدین ابن عربی التدبیرات الالہیہ میں فرماتے ہیں
انسان تین طرح کا ہوتا ہے
اول باطنی انسان
جو توحید کو ختم کرنے کے در پے ہوتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی ذات و صفات کے وہ معانی کرتا ہے جو مسلمانوں کے عقائد سے ہٹ کر ہوتے ہیں اور یہ باطنیت شرعی احکام کو معطل کرنے اور شرعی معاملات کو الٹا ثابت کرنے کا نام ہے اسی لیئے باطنیت پر حال میں مذموم ہے
دوم ظاہری انسان
جو جو صرف ظاہری باتوں دیکھ کر شور مچائے تو یہ اللہ رب العزت کو اجسام و مکان میں قید کر دیتا ہے یہ بھی شرعاً مذموم ہے
سوم وہ جو شریعت کے تابع ہو کر چلتا ہے
جہاں شریعت کہے رک جاؤ وہ رک جاتا ہے جہاں شریعت کہے کھڑے ہو جاؤ وہ کھڑا ہوجاتا ہے جہاں کہے چلو وہ چل پڑتا ہے
یہی بر حق ہے
خوب یاد رکھیں علماء و اولیاء نے فرمایا کہ باطنی مسلمانوں کے لیئے یہود و نصاری و مجوس سے زیادہ نقصان دہ ہے
باطنیوں کی دو اقسام ہیں
پہلی قسم کہتی ہے کہ قرآن و حدیث کا اصل معنی ظاہری نظر آنے والے معنی کے خلاف ہے
نماز , روزہ , حج , زکوۃ ادا کرنے اور زنا سے بچنے کا حکم یہ سب اس معنی میں نہیں ہیں جس کو عام لوگ سمجھتے ہیں
نماز غور و فکر کا نام ہے حج مقدس لوگوں کو دیکھنے کا نام ہے وغیرہ
یہ شریعت کے ظاہری احکام کو معطل و باطل کرنا چاہتے ہیں اور نماز روزے کو مولویوں کے کام کہتے ہیں
یعنی کہتے ہیں یہ کام قال والوں کے ہیں ہم حال والے ہیں
ان کے نذدیک ڈھول باجا سماع و قوالی نماز روزے سے بہتر ہے شریعت کا علم فضول ہے
یہ قسم بالاتفاق زندیق بے دین اور خارج از اسلام ہے
دوسری قسم باطنیوں کی وہ جو باطنی علوم کی باتیں کرتے ہیں اور شریعت کے ظاہر کو ساتھ لیکر چلتے ہیں اور باطن کو ظاہر سے الگ نہیں کرتے بلکہ دونوں کو لازم و ملزوم کہتے ہیں
یہ علماء حق ہیں یہی اولیاء کاملین ہیں
پہلی والی قسم کے باطنی فرقے کے چند نام ہیں
اسماعیلی،اغاخانی،قرامطہ،حشیشیون، باطنی وغیرہ اور انکی کی وجہ سے اسلام کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے
کیونکہ انہوں نے بہت سے علماء و صلاح کو شہید کیا ہے
جن میں سے چند کے یہ نام ہیں
(1) عباسی خلیفہ مسترشد باللہ کو 529 ھجری میں پندرہ باطنیوں نے اچانک حملہ کر کے شہید کر دیا اور ان کے ناک کان زبان کاٹ دی
(2) نظام الملک سلجوقی وزیر کو 485 ھجری میں ایک باطنی نے بھکاری بن کر شہید کیا
(3) ابو نصر نظام الملک وزیر کو 503 ھجری میں نماز کے دوران باطنیوں نے شہید کیا
(4) ابو محاسن وزیر کو 495 ھجری میں باطنیوں نے شہید کیا
(5) معین الملک وزیر کو راستے میں گھیر کر 521 ھجری میں شہید کیا
(6) وزیر عضد الدین ابو الفرج کو حج پر جاتے ہوئے 583 ھجری میں فقراء کے بھیس میں آکر باطنیوں نے شہید کیا
(7) شہاب الدین غوری کو 602 ھجری میں باطنیوں نے شہید کیا
(8) 570 اور 571 ھجری میں دو بار صلاح الدین ایوبی پر حملہ کیا مگر وہ بچ گئے
(9) امام الحرمین کے بیٹے ابو القاسم کو 492 ھجری میں باطنیوں نے شہید کیا
° چالیس کے قریب علماء و امراء و وزراء کو باطنیوں نے شہید کیا °
اسی لیئے علماء نے کہا باطنیوں کا فتنہ یہود و نصاری سے بڑھ کر ہے
اور اب چند ان مشہور لوگوں کے نام ذکر کیئے جاتے ہیں جو باطنی فرقے سے تعلق رکھتے تھے
ابن سیناء،ابن الھیثم،جابر بن حیان،کندی کے بارے بھی کہا گیا مصر میں صدیوں حکومت کرنے والے فاطمی سلطان یہ سب باطنی تھے
اور باطنیوں کی تعریف اوپر پڑھ لیں کہ وہ لوگ جو دین اسلام کے مخالف ہیں نماز روزے حج زکوۃ کو فضول کہنے والے ہیں جنت و دوزخ کے منکر ہیں
جن سائنس دانوں کی کتب جلانے اور ان کو سزائیں دینے کے قصے ہیں تو وہ اسی وجہ ہیں کہ وہ باطنی تھے
یعنی عام مسلمانوں کے درمیان اسلام کے بارے شکوک و شبہات پیدا کرتے تھے اور اپنی کتابوں میں نماز روزے حج زکوۃ کا مذاق اڑاتے تھے
تبھی ان کی کتابیں جلائی گئیں اور °°° آج کے باطنیوں کو اس کی تکلیف ہوتی ہے اور ان پڑھ مسلمان بھی ان کے دھوکے میں آ جاتے ہیں کہ واقعی مسلمانوں نے عظیم سائنسدانوں کو قتل کیا ان کی کتابیں جلائی تھیں °°°
ابن سیناء و ابن حیان وغیرہ کے نذدیک اللہ تعالیٰ سب کچھ نہیں جانتا معاذ اللہ ان کے نذدیک عالم قدیم ہے یعنی خود سے ہے اور ہمشیہ رہے گا
تو ان سب کفریات کی وجہ سے ان کو سزائیں دی گئیں اور آج لبرل چیختے ہیں مسلمانوں نے سائنسدانوں کو قتل کیا ہے
اوپر آپ نے پڑھا کہ باطنی دو طرح کام کرتے تھے
ایک تو مسلمان علماء و امراء کو شہید کرتے دوسرے عوام میں اسلام کے بارے شکوک شبہات پیدا کرتے
تو اس صورت حال میں ان پر نرمی کرنا دین اسلام سے دغا تھی
لہذا وہی کیا گیا جس کے وہ حق دار تھے
اور شاید آج کل چیخنے والے بھی باطنی ہیں جو کھل کر اظہار نہیں کر سکتے
ان کا جب ہاتھ پڑے یہ مسلمانوں کو شہید کریں گے اور اسلام کے بارے شکوک و شبہات پیدا کریں گے
ان کو اسلامی تاریخ اسلامی علماء اسلامی بادشاہوں سے زیادہ غیر مسلموں کی ہر چیز اچھی لگتی ہے
یہی باطنی ہونے کی نشانی ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
