تاریخِ_اسلامی 38
چشمِ تصور میں لا کر اپنا ماضی اور پھر حال دیکھیں
ایک طرف سلطان ایوبی دوسری طرف نواز شریف
ایک طرف نور الدین زنگی دوسری طرف آصف زرداری
ایک طرف سلطان محمود غزنوی دوسری طرف عمران نیازی
ایک طرف سلطان محمد فاتح دوسری طرف شیخ شیخ رشید
ایک طرف عبد الرحمن الداخل دوسری طرف جنرل ضیاء
ایک طرف قتیبہ بن مسلم دوسری طرف جنرل مشرف
ایک طرف طارق بن زیاد دوسری طرف بلاول بھٹو
ایک طرف محمد بن قاسم دوسری طرف جنرل رحیل شریف
ایک طرف سلطان عثمان اول دوسری طرف ہمارے اوپر مسلط ستر سالہ سیاستدان و جرنیل
یقین کریں مجھے اپنے سابقہ سپہ سالاروں کا پاکستان اور دنیا بھر اس وقت کے مسلمان سیاست دانوں سے جرنیلوں سے تقابل کرواتے ہوئے انتہائی شرم آرہی ہے
کہاں وہ خود دار’ با غیرت’ با کردار’ اور حقیقی مسلمان اور کہاں یہ ان کے بالکل الٹ!!!؟؟؟
اگر وہ سپہ سالار قبروں سے اٹھ کر آ جائیں تو ہمارے جرنیلوں سیاستدانوں کو اپنا سائس {گھوڑے پالنے والا} تک نہ بنائیں
اور اگر یہ قیامت میں اُن کا سامنا کریں تو نگاہیں نہ ملا سکیں
اب یہاں تبصرہ کرنے سے پہلے مجھے یہ لازمی بتانا کہ جن جرنیلوں سیاستدانوں کے دفاع میں کچھ بھی لکھو بولو گے ان کی کوئی ایک فتح بتا دو بس
کوئی ایک انچ دکھاو جس کو انہوں نے اسلام کی سر بلندی کے لیئے فتح کیا ہو؟
کوئی ایک ٹکڑا زمیں کہا جہاں ان کی بدولت اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہو رہی ہوں؟
اگر نہیں دکھا سکتے یقیناً نہیں دکھا سکو گے تو اپنے اوپر چار حرف ڈال کر ان بذدلوں کی حمایت چھوڑ دو اور ان کو ہیرو کہنا ترک کر دو
چونکہ چنانچہ کہ اگر مگر اور موقع نہیں ملا یہ وہ انتہائی بد بو دار اور بیہودہ بہانے ہیں
ایمان پانی اور ایماندار اپنا رستہ خود بنا لیتے ہیں
اسی وجہ سے میرے نذدیک کسی بھی سیاست دان کا حمایتی دنیا کا احمق ترین بندہ ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
