ہمارا نام امریکی ترانوں میں گونجتا تھا

تاریخِ_اسلامی 36

وہ اہم تاریخی معلومات جن سے ہم میں سے اکثر لوگ ناواقف ہیں اور بدقسمتی سے ہمیں سکولوں میں نہیں پڑھایا جاتا
دشمن ہماری اسلامی تاریخ کو مسخ کر دیتے ہیں جس پر ہمیں فخر کرنا چاہیئے

یہ بات سنہ 1801 عیسوی کی ہے جب امریکہ اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان جنگ ہوئی
یہ جنگ 1801ء میں ہوئی اور 1804ء تک جاری رہی پہلی جنگ جو امریکہ نے اپنی سرحدوں سے باہر لڑی جب امریکیوں نے عثمانی حکمران یوسف پاشا القرمنلی کو امریکی بحری بیڑے کے داخلے پر ٹیکس دینے سے انکار کر دیا

عثمانی گورنر نے لیبیا کے شہر طرابلس میں امریکی سفارت خانے میں امریکی پرچم گرا دینے اور امریکی سفیر کو جلا وطن کرنے کا حکم دے دیا

امریکی صدر جیفرسن نے طرابلس کے گورنر یوسف کرامنلی کو امریکہ کی توہین کرنے پر تادیبی کارروائی کے لیے امریکی بحری بیڑا بھیجا

بحری جنگ شروع ہوئی
لیکن جلد ہی امریکہ کے لیے تباہی پر ختم ہوئی
جہاں امریکی بحری بیڑے کو گھیر لیا گیا اور اس کے سب سے بڑا جہاز فلاڈیلفیا پر قبضہ کر لیا گیا
اور 301 سے زیادہ ملاحوں نے جہاز پر ہتھیار ڈال دیے

اور جب امریکہ اسے بازیاب نہ کر سکا تو اس نے جاسوس بھیجے انہوں نے جہاز جلا دیا
لیکن امریکیوں نے ہتھیار نہیں ڈالے
اس لئے انہوں نے طرابلس کے گورنر اور اس کے بھائی احمد پاشا القرمانی کے درمیان جو کہ مصر کا گورنر تھا میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی جس کے لیئے انہوں نے پیسہ اور خوبصورت خواتین پیش کیں جو خاص طور پر امریکہ سے مصر کے گورنر کے لیئے لائی گئی تھیں
تاکہ طرابلس کے گورنر کے خلاف ان کے ساتھ اتحاد کریں اور اس کی حکومت کو تبدیل کریں اور ساتھ میں مصر کے گورنر کو طرابلس (موجودہ لیبیا) پر حاکم بنانے کا وعدہ کیا

امریکیوں نے دیرنا (مشرقی لیبیا) پر حملہ کرنے اور پہلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ایک بہت بڑی فوج تیار کی لیکن جلد ہی طرابلس کے گورنر نے مراکش، الجزائر، تیونس اور سلطنت عثمانیہ کی افواج کی مدد طلب کی اور پھر امریکہ کو ایک عبرت ناک شکست ہوئی جہاں ایک دن میں 1800 کے قریب امریکی فوجی مارے گئے، 700 قیدی بنا لیئے گئے

یہ شکست بالآخر امریکہ کے ساتھ ایک عبرت ناک معاہدے پر دستخط کرنے کا باعث بنی
{ طرابلس، تیونس، الجزائر اور مراکش کے گورنرز} جس کے مطابق امریکہ ہر شہید ہونے والے فوجی کے بدلے اسلامی ممالک کو معاوضہ ادا کرے گا
اور پچھلے سالوں کے مقابلے میں دوگنا ٹیکس بھی ادا کیا کرے گا
اور تینوں اسلامی ممالک سے معافی بھی مانگے گا

آج بھی امریکی بحریہ کے ترانے میں جو اس وقت سے تبدیل نہیں ہوا ان عرب ممالک کا ذکر ہے

(مونٹیزوما کے ہالوں سے لے کر طرابلس کے ساحلوں تک، ہم اپنے ملک کی جنگیں ہوا، زمین اور سمندر میں لڑتے ہیں)
{ارض البطولۃ یوسف الفہمی}
یہ خوبصورت کہانی ہمیں قدیم تاریخ بالخصوص اسلامی تاریخ سے ہماری ناواقفیت کی حد دکھاتی ہے جسے ہمارے دشمنوں نے جان بوجھ کر چھپایا یا مسخ کیا

لیکن سنا ہے پھر قدسیوں سے میں نے وہ شیر پھر بیدار ہوگا

صرف ضرورت ہے قوتِ بازوئے مسلم پہ یقین کرنے کی
صرف ضرورت ہے نوجوانوں سے احساس کمتری ختم کرنے کی
کیونکہ امت مسلمہ کی زمیں بہت زرخیز ہے یہ پھر کوئی ایوبی و غزنوی پیدا کر دے گی

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top