عثمانیوں کی بے مثل و بے نظیر عادات

تاریخِ_اسلامی 13

(1) قہوہ اور پانی

جب عثمانی ترکوں کے پاس کوئی مہمان آتا تو وہ اس کے سامنے قہوہ اور سادہ پانی پیش کرتے

اگر مہمان پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتا وہ سمجھ جاتے کہ مہمان کو کھانے کی طلب ھے تو پھر وہ بہترین کھانے کا انتظام کرتے

اور اگر وہ قہوہ کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ جان لیتے کہ مہمان کو کھانے کی حاجت نہیں ھے

(2) گھر کے باہر پھول

اگر کسی گھر کے باہر پیلے رنگ کے پھول رکھے نظر آتے تو اس کا مطلب ہوتا کہ اس گھر میں مریض موجود ھے آپ اس مریض کی وجہ سے گھر کے باہر شور شرابہ نہ کریں اور عیادت کو آسکتے ہیں

اور اگر گھر کے باہر سرخ پھول رکھتے ہوتے تو یہ اشارہ ہوتا کہ گھر میں بالغ لڑکی ہے لہذا گھر کے آس پاس بازاری جملے نہ بولے جائیں

اور اگر آپ پیغامِ نکاح لانا چاہتے ہیں تو خوش آمدید!

(3) ہتھوڑا

گھر کے باہر دو قسم کے ڈور بیل (گھنٹی نما) ہتھوڑے رکھے ہوتے

ایک بڑا ایک چھوٹا

اگر بڑا ہتھوڑا بجایا جاتا تو اشارہ ہوتا کہ گھر کے باہر مرد آیا ھے لہذا گھر کا مرد باہر جاتا تھا

اور اگر چھوٹا ہتھوڑا بجتا تو معلوم ہوتا کہ باہر خاتون موجود ہے لہذا اس کے استقبال کے لئیے گھر کی خاتون دروازہ کھولتی تھی

(4) صدقہ

عثمانی ترکوں کے صدقہ دینے کا انداز بھی کمال تھا
کہ
ان کے مالدار لوگ سبزی فروش یا دوکانداروں کے پاس جا کر اپنے نام سے کھاتہ کھلوا لیتے تھے
اور جو بھی حاجت مند سبزی یا راشن لینے آتا تو دوکاندار اس سے پیسہ لیئے بغیر اناج و سبزی دے دیتا تھا یہ بتائے بغیر کہ اس کا پیسہ کون دے گا

کچھ وقت بعد وہ مالدار پیسہ ادا کر کے کھاتہ صاف کروا دیتا

(5) تریسٹھ سال

اگر کسی عثمانی ترک کی عمر تریسٹھ سال سے بڑھ جاتی اور اس سے کوئی پوچھتا کہ آپکی عمر کیا ہے؟؟؟

تو وہ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیاء و ادب کرتے ہوئے یہ نہ کہتا کہ میری عمر تریسٹھ سال سے زیادہ ہوگئی
ھے
بلکہ یہ کہتا
بیٹا ھم حد سے آگے بڑھ چکے ہیں

اللہ اللہ کیسا ادب کیسا عشق تھا ان لوگوں کا

کیسی بہترین عادت تھی ان لوگوں کی

(6) قبر پر پھول
کسی قبر کے کنارے گلاب کے پھول کی تصویر بنی ہوتی تو اشارہ ہوتا کہ قبر میں جواں سالہ بچی دفن ہے
فاتحہ پڑھ کر ایصال ثواب کریں اور اس کے والدین کے لیئے صبر کی دعاء کریں

(7) بلیوں اور کتوں کے لیئے وقف
سارا سال اور خاص طور پر سردیوں میں بلیوں حتی کہ جنگلی جانوروں کے لیئے خوراک کا انتظام کرتے تھے
اس کے لیئے باقاعدہ محکمہ جات قیامِ عمل میں لائے گئے تھے
(8) رمضان شریف میں سجاوٹ

رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں آتے ہی مساجد اور گھروں کو سجانا شروع کر دیتے تھے
گلیوں میں چہل پہل ہو جاتی اور رنگ رنگ کے کپڑوں پر مختلف لکھائی جن پر تسبیحات و تکبیرات لکھی ہوتی تھیں
اسلامی شعائر کو عثمانی ترکوں نے بہت مضبوطی سے تھاما ہوا تھا

یہی وجہ تھی کہ عالم کفر نے سلطنت عثمانیہ کے غداروں سے مل کر ٹکڑے کر ڈالے

مگر
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے کہ وہ شیر پھر بیدار ہوگا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top