تاریخِ_اسلامی 12
سلطانِ عالیشان سلیمان القانونی کے دور میں ایک یورپین ریاست نے مسلمان خواتین کو قیدی بنا لیا
اور ان کو جیل میں بند کر کے طرح طرح کی اذیتیں دینے لگے
جب سلطان سلیمان کو یہ خبر ہوئی تو اس نے اس ریاست پہ حملہ کر کے ان مسلمان خواتین کو قید سے نکالا
اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ
اس جیل خانے کو توڑ کر اس کے پتھر وغیرہ (یعنی عمارتی میٹیریل)
استنبول لائے جائیں
سلطان نے ان پتھروں سے ان قیدی خواتین کے گھر بنائے •اور خواتین سے معذرت کی کہ آپ کو آزاد کروانے میں دیر ہوگئی تھی•
پھر حکم دیا کہ جس شہر میں ان مسلمان خواتین کو قیدی بنا کر رکھا گیا تھا
°°°اس شہر کے فوجی افسران و مالدار لوگوں کی خواتین کو ان مسلمان خواتین کی خدمت و ملازمت پر مقرر کر دیا جائے
حکم کی تعمیل کی گئی°°°
وہ ہمارا عروج تھا
اب زوال یہ ہے کہ کشمیر و فلسطین و شام میں مسلمان خواتین کی عزت تک محفوظ نہیں اس نے باوجود حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی
اسی طرح عموریہ شہر میں ایک مسلمان خاتون کو قید کر لیا گیا
اس نے وہاں سے عباسی خلیفہ المعتصم باللہ کو پکارا وا معتصماہ یعنی ہائے معتصم مجھ پر ظلم کیا جا رہا ہے
کسی کے یہ خبر بغداد میں معتصم باللہ کو دی تو خلیفہ نے فوری جہاد کا حکم دیا لشکر تیار کیا اور عموریہ شہر فتح کر لیا
پھر اس خاتون کے پاس جا کر کہا
کیا معتصم نے تمہاری فریاد سن لی ؟
وہ کہنے لگی جی ہاں امیر المومنین آپ نے میری فریاد سن لی
ٔ اسی طرح صرف ایک خط کے جواب میں محمد بن قاسم نے سندھ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور بر صغیر میں اسلام کی آمد کا دروازہ کھول دیا
جب مسلمان حکمران غیرت مند تھے دخترانِ اسلام کو اپنی بیٹیاں سمجھتے تھے تو صرف ایک پکار پر شہر کے شہر فتح کر لیتے تھے
اب غیرتِ دینی باقی نہیں رہی کیونکہ حکمرانوں میں دین باقی نہیں رہا
جس میں دین ہوتا ہے اس میں دینی غیرت بھی ہوتی ہے
جس کے سامنے مسلمان مردوں کو قتل ` بچوں کو یتیم اور خواتین کو بے آبرو کیا جا رہا ہو پھر بھی وہ حاکمِ وقت خواہ کسی ایک ملک کا ہو خاموش رہے تو دینی غیرت سے خالی ہے
اور دینی غیرت و حمیت سے وہی خالی ہوتا ہے جس میں دین نہیں ہوتا
ایسے حاکم کو حاکمِ وقت ہونا تو دور زندہ رہنے کا حق نہیں جو غیرتِ دینی سے خالی ہو
ایسا حکمران بزدلی کی زندگی جیتا ہے اور بذدلوں کی موت مرتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
