حضور سیدِ عالم کا دیدار کرنا چاہتے ہیں

عشقِ_سیدِ_عالم 63

جب قبرِ انور سے دستِ مبارک ظاہر ہوا

امامِ اجل جلال الدین السیوطی رحمة الله تعالى عليه سے سوال ہوا شیخ احمد الرفاعی رضى الله عنه کے بارے آتا ہے کہ انہوں نے حضور سیدِ عالم صلی الله عليه وسلم کی قبر مبارک کے پاس سلام عرض کیا تو اندر سے آواز آئی اور حضور جانِ عالم صلی الله عليه وسلم کا دست مبارک ظاہر ہوا اور شیخ احمد الرفاعی نے چوما تھا
کیا یہ روایت صحیح ہے ؟
علامہ السیوطی نے اس پر مختصر سا رسالہ لکھا جس کا نام
الشرف المحتم فيما من الله به على وليه الشيخ احمد الرفاعى من تقبيل يد النبى صلى الله عليه وسلم
رکھا
اس میں فرمایا متواتر روایات سے ثابت ہے کہ شیخ احمد الرفاعی نے حضور سیدِ عالم صلی الله عليه وسلم کا دستِ مبارک چوما تھا
اس کا انکار کرنا منافقت ہے
شیخ احمد الرفاعی نے قبر انور کے پاس عرض کیا

السلام علیک یا جدی
نانا جان آپ پر سلام ہو
تو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا
و علیک السلام یا ولدی
اے میرے بیٹے تجھ پر بھی سلام ہو
یہ سن کر شیخ احمد الرفاعی کو وجد آ گیا وہ گھٹنوں کے بل گر پڑے ان کا رنگ زرد ہو گیا پھر کھڑے ہوئے اور طویل دیر روتے رہے اور عرض کیا ہائے نانا جان
پھر یہ اشعار پڑھے
في حالة البعد روحي كنت ارسلها
تقبل الارض عني وهي نائبتي

جب میں دور تھا تو اپنی روح آپ کی بارگاہ میں بھیجتا تھا جو میری طرف سے میری نائب ہو کے زمین مبارک چومتی تھی

وهذه دولة الاشباح قد حضرت
فامدد يمينك كي تحظى بها شفتي
یہ میرا جسم حاضر ہو چکا ہے اپنا دستِ مبارک سامنے کیجے میں چومنا چاہتا ہوں
ستر ہزار لوگوں کی موجودگی میں دستِ مبارک ظاہر ہوا اور شیخ احمد الرفاعی نے چوما
فرماتے ہیں کہ لوگوں پر دہشت کے مارے قیامت قائم ہوگئی تھی
وہاں مسجدِ نبوی میں جنابِ غوثِ پاک بھی تھے اور دیگر اولیاء کرام بھی حاضر تھے

الله الله الله الله
کیا شان پائی کیا منظر تھا حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد کے دیگر افراد بھی حاضر تھے
میرا دل بھی چاہتا ہے کہ میں بارگاہِ مصطفیٰ میں حاضر ہو کر السلام علیک یا جدی کہوں اردو میں کہوں نانا جان آپ پر سلام ہو
مگر میں سیاہ کار تو یہاں بھی نہیں کہ سکتا
اس بارگاہ کی ہیبت اتنی ہے کہ حج و عمرہ پر جانے والوں میں آج تک کسی کو میں یہ نہیں کہ سکا کہ میرا سلام عرض کرنا
جنہوں نے وہ منظر دیکھا ہوگا ان کی کیفیت بیان سے باہر ہے
آپ
علامہ السیوطی نے خود تقریباً ستر مرتبہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیداری کے عالم میں دیکھا ہے
یہ تکریم کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے
کوئی عمر بھر مچلتا ہے پھڑکتا ہے تڑپتا ہے کہ بس ایک بار جلوہَ جاناں دیکھ لیں اور کسی کو بار بار نوازا جاتا ہے

اے گناہ گارو
!خبردار
کبھی کسی صورت مایوس مت ہونا وہ نیت پر کرم فرماتے ہیں عمل پر نہیں لہذا دل کے قبلہ کو پکارتے رہیں پکارتے رہیں پکارتے رہیں وہ ضرور توجہ فرمائیں گے
اور جب وہ توجہ فرمائیں گے تو بقول حسان الہند
لو وہ آئے مُسکراتے ہم اسیروں کی طرف
خرمنِ عصیاں پہ اب بجلی گراتے جائیں گے
لطف کی بات بتاؤں
اگر آپ اُن صلی الله عليه وسلم کی توجہ چاہتے ہیں تو اُن کی اولاد سے بھلا کیا کریں
آلِ رسول سے حسنِ سلوک کیا کریں یہ چھوڑ دیں کس کا عمل کیا ہے کون مقرر کیا کہتا ہے
آپ کسی بھی سید کی انفرادی شخصیت کو نہ دیکھیں بلکہ اس کی رگوں میں دوڑتے پاک لہو کو دیکھیں اور خدمت کریں
اِن کے نانا جان نہ دنیا میں آپ کو بھلائیں گے نہ محشر میں تنہاء چھوڑیں گے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top