میلاد کی رات کو شبِ قدر پر 19 وجہوں سے فضیلت حاصل ہے

عشقِ_سیدِ_عالم 44

مسلمان بنیں شیطان نہ بنیں

جنى الجنتين فى شرف الليلتين میں الامام الحافظ الفقیہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد التلمسانی نے شبِ میلاد اور شبِ قدر میں تقابل کیا اور 19 وجوہات سے شبِ میلاد کو شبِ قدر سے افضل ثابت کیا ہے
مصنف رحمہ اللّٰہ کی جلالتِ علمی و دیانتِ دینی مسلم و مستند ہے
منکرینِ میلاد اگر اکابر علماءِ اسلام کا انکار کرتے رہے تو پیچھے کیا بچے گا ؟

انیس دلائل پڑھیں اور مزہ لیں

{1} فضیلت رفعت و بلندی کا نام ہے اور یہ دونوں اضافی چیزیں ہیں
کوئی بھی رات شرف و فضیلت والی تب ہوتی ہے جب اس میں شرف والی بات زیادہ ہو
جبکہ میلاد کی رات حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے مشرف ہے تو اس لحاظ سے میلاد کی رات افضل ہے

{2} میلاد کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے جبکہ لیلة القدر آپ کو عطاء کی گئی ہے اور ظاہر ہے عطاء سے صاحب عطاء کی رات افضل ہے
{3} شبِ قدر شبِ میلاد کی عطاء کی ہوئی ایک خوبی ہے اگر شبِ میلاد نہ ہوتی تو شبِ قدر بھی نہ ہوتی

{4} شبِ قدر کی فضیلت و برکت اسی رات تک مخصوص اور مخصوص بندوں تک محدود ہے
جبکہ شبِ میلاد کی برکات پورے سال اور ہر انسان کو شامل ہیں
{5} شبِ قدر کو شرف نزولِ ملائکہ کی وجہ سے ملا جبکہ شبِ میلاد کو شرف امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی وجہ سے ملا اور ظاہر ہے اعلی و افضل کی آمد نے اس رات کو بھی افضل بنا دیا

{6} دونوں راتیں فضل و شرف میں برابر ہیں کہ ان میں ملائکہ کا نزول ہوتا ہے مگر شبِ میلاد افضل یوں بھی ہے کہ اس میں ملائکہ کے ساتھ انبیاء کرام علیہم السلام بھی تشریف لائے تھے

{7} شبِ قدر میں فرشتے آسمان سے اترتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں جبکہ شبِ میلاد میج تشریف لائی نعمت زمین پر ہی ہے

{8} شبِ قدر کی فضیلت عمل کرنے کے ساتھ خاص ہے جو اس وقت عبادت و نیکی میں مشغول ہوگا وہ اسے پاسکتا ہے جبکہ شبِ میلاد کی برکات نیک و بد سب پاتے ہیں

{9} شبِ قدر کی فضیلت اس لیئے کہ یہ امتِ محمدیہ علیٰ صاحبھا الصلوۃ و السلام کو عطاء کی گئی جبکہ شبِ میلاد میں وہ خود تشریف لائے ہیں
{10} شبِ قدر کی وجہ صرف امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوۃ و السلام کو فائدہ ہوتا ہے جبکہ شبِ میلاد کی وجہ سے تمام مخلوقات کو فائدہ ہے کیونکہ وہ رحمۃ للعالمین ہیں

{11} شبِ قدر میں رات کی اضافت قدر کی طرف ہے ہم کہتے ہیں قدر کی رات ہے جبکہ شبِ میلاد میں نسبت حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے ہم کہتے ہیں شبِ میلاد النبی ہے تو اس اضافت کی وجہ سے بھی شبِ میلاد افضل ہے

{12} شبِ قدر کی منفعت اسی کو ملتی ہے جو نیکی کا عامل ہو جبکہ شبِ میلاد کا نفع متعدی ہے
{13} شبِ قدر کا فضیلت سال میں ایک بار غیر متعین رات ہے جبکہ شبِ میلاد معین رات ہے

{14} جس طرح زمین کا وہ ٹکرا جو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے مس ہے بالاجماع ساری زمیں سے افضل ہے ویسے ہی وہ وقت بھی سب وقتوں سے افضل ہے جس میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی

{15} شبِ قدر شبِ میلاد کی فرع ہے اور یہ واضح ہے اضل فرع سے اعلی و افضل ہوتی ہے

{16} شبِ میلاد میں فیوضاتِ الہیہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی وجہ سے عام تھے جبکہ شبِ قدر میں فرشتوں کے وجود کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ظاہر ہے اعلی و افضل وجود سے فیوض و برکات بھی افضل ہوتی ہیں

{17} شبِ میلاد اللہ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ظاہر فرمایا جس سے اخروی دائمی نجات کی ضمانت ہے جس پاک وجود سے رنگِ کائنات قائم ہے جبکہ شبِ قدر میں ایسا کچھ نہیں ہے

{18} اگر شبِ میلاد کو افضل نہ مانا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ ملائکہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہیں تبھی ان کے نزول کی رات افضل ہے جبکہ یہ باطل ہے

{19} حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا میرا زمانہ سب زمانوں سے افضل ہے تو جس کی نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوگی وہ دوسری شے سے افضل ہوگا

(ماخوذ جنی الجنتین فی شرف اللیتین للحاظ التلمسانی)

رد المحتار میں علامہ شامی نے راتوں کی افضلیت کی ترتیب یوں بیان کی ہے
سب سے افضل رات شبِ میلاد ہے پھر شبِ قدر پھر شبِ معراج پھر شبِ عرفہ پھر شبِ جمعہ پھر شب براءت پھر شبِ عید ہے
(رد المحتار جلد 3 صفحہ 604)
بغضِ میلاد میں تمہیں نہ تلمسانی جیسا علم کا پہاڑ مستند لگا نہ شامی جیسا بحرِ بیکراں تسلیم کرتے ہو تو پھر بتاؤ تم خود کس کھیت کی مولی ہو ؟
تمہارا بونا قد اور محدود عقل امت کے اکابر علماء سے بلند ہے ؟

یہ مبارک رات مسلمان کی زندگی کی اہم ترین رات ہوتی ہے اور شیطان پر بھاری رات ہوتی ہے
لہذا اس مبارک رات کی آمد پر خوشی منا کر مسلمان ہونے کا ثبوت دیں نہ کہ منہ پھیلا کر شیطان ہونے کا ثبوت دیں


سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top