جمائی کے وقت تصورِ انبیاء سے جمائی کیوں رک جاتی ہے

عشقِ_سیدِ_عالم 40

جمائی کی سائنسی توجیہ حدیث پاک کے مطابق

آج رد المحتار پڑھتے ہوئے ایمان افروز بات پڑھی اگرچہ پہلے بھی پڑھی تھی مگر آج پڑھ کر لکھنے کا خیال آیا

علامہ شامی جلد اول میں فرماتے ہیں
زاھدی نے کہا جمائی کو روکنے طریقہ یہ ہے کہ انسان دل میں خیال کرے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو جمائی نہیں آتی تھی تو جمائی رک جائے گی
اس پر امام قدوری نے فرمایا
ہم نے کئی بار یہ تجربہ کیا تو واقعی ایسا ہی پایا
علامہ شامی نے اس پر مزید فرمایا کہ
میں نے بھی تجربہ کیا واقعی ایسا ہی معاملہ ہے کہ جمائی آتے وقت انبیاء کرام کا تصور کریں تو جمائی رک جاتی ہے

اب سوال ہے کہ انبیاء کرام کے تصور کے وقت جمائی کیوں نہیں آتی؟
تو اس کا جواب ہے جمائی شیطان کی طرف سے ہے

جبکہ سائنس دان آج تک جمائی کے اسباب معلوم کرنے سے ناکام رہے ہیں
ہاں بس اتنا کہتے ہیں کہ جمائی دماغ کے ایک مخصوص حصے میں عارضی خرابی کا نام ہے مگر وہ خرابی کیوں پیدا ہوتی ہے یہ معلوم نہیں ہے
مگر حدیث پاک میں اس کی وضاحت کر دی گئی کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے یعنی شیطان انسان کے دماغ سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے جس سے سستی پیدا ہوتی
جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث پاک میں ہے
التثاؤبُ من الشيطان فإذا تثاءَب أحدُكم فليَكظِمْ ما استطاع
جمائی شیطان کی طرف سے تو تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ کوشش کر کے اسے دور کرے

جمائی اصل میں شیطان کی طرف سے پیدا کردہ سستی و غفلت کا اثر ہے
معلوم ہوا جمائی شیطان کی طرف سے ہے اور شیطانی عمل کو دور انبیاء کرام کی یاد سے کیا جاتا ہے

کیونکہ جہاں ذکرِ نبی ہو, یادِ نبی ہو, وہ شیطان اپنا اثر ظاہر نہیں کر سکتا

حسان الہند فرماتے ہیں

پھیر دیجے پنجۂ دیوِ لعیں
مصطفیٰ کے بَل پہ طاقت کیجیے

“””یہی وجہ ہے جس سفید ریش, ماتھے پر محراب والے کے بارے شک ہو درد پاک پڑھیں, ذکرِ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کریں اگر مومنِ خالص ہوا تو کِھل اٹھے گا اگر منافق خالص ہوا تو جل اٹھے گا”””
کیونکہ درود پاک و ذکر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہدِ خالص ہے اور خالص شہدے کتے کو ہضم نہیں ہوتا

امام اھل سنت فرماتے ہیں

ذِکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں
چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجیے

اور مزید معلوم ہوا کہ صرف تصورِ نبی شیطانی عمل کو روک دیتا ہے تو ذکرِ نبی کیسا مقام رکھتا ہوگا ؟

ذکرِ نبی سببِ نزولِ ملائکہ ہے اور نزولِ ملائکہ سے شیطان دفع ہوتا ہے
جو تصورِ نبی میں رہتا ہے وساوس و شبہات سے پاک رہتا ہے
خیالِ یار وچ میں مست رہندا واں دنے راتی
میرے دل وچ سجن وسدا میرے دیدے ٹھرے رہندے

امام اھلِ سنت فرماتے ہیں

ان کے نامِ پاک پر دل جاں فدا
نجدیا سب تج دیا پھر تجھکو کیا
اللہ رب العزت حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں ہمیں موت دے
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top