99 والا قاعدہ

اسلامی_طرزِتربیت 114

ایک بادشاہ نے وزیر سے پوچھا
کیا وجہ ھے کہ میں ہر سیاہ سفید کا مالک ہو کر بھی پریشان رہتا ہوں
اور میرا خادم کنگال ہو کر بھی خوش باش رہتا ھے؟

° وزیر نے کہا آپ اپنے خادم کیساتھ 99 والے قاعدے کا تجربہ کریں °

بادشاہ نے کہا 99 والا قاعدہ کونسا ھے؟
وزیر نے کہا ھے
آپ اپنے خادم کے دروازے پر 99 سونے کے سکوں کی بھری تھیلی رکھ دیں مگر اس پر 100 سکے لکھ دیں
اور دروازہ بجا کر ایک طرف ہو جائیں
اور پھر تماشا دیکھیں
بادشاہ نے ایسے ہی کیا
خادم دروازے سے باہر آیا تھیلی اٹھا کر اندر لے گیا جب اندر جا کر سکے شمار کیئے تو وہ 99 تھے
بس پھر کیا تھا
خادم نے اپنے بچوں کو بھگایا کہ باہر جا کر دیکھو ایک سونے کا سکہ اور ہوگا
مگر بچوں کو نہ ملنا تھا نہ ملا
انہوں نے واپس آ کر بتایا کہ باہر ایک سکہ نہیں ھے
اب ان کا باپ خود باہر آیا اور اچھی طرح دائیں بائیں دیکھنے لگا
مگر اس کو سکہ نہ ملا پھر اس نے بچوں کو گلی کے اطراف میں دوڑایا اور خود بھی تلاش کرنے لگا

° اور غصے سے بڑبڑانے لگا کہ نکمو ایک سکہ نہیں مل رہا تمہیں °
اسی تلاش میں انکی ساری رات گزر گئی

دوسرے دن خادم بادشاہ کے دربار میں رت جگے کیساتھ پریشان حال حاضر ہوا
تب باشادہ کو 99 کے قاعدے کی سمجھ آگئی کہ ہمارے پاس اللہ رب العزت کی 99 نعمتیں ہوتی ہیں مگر ہم ایک نعمت کے نہ ملنے پر اپنی زندگی کو عذاب بنا لیتے ہیں

انسان کتنا احمق ہوتا ہے کہ بے شمار نعمتوں کو بھلا کر ایک دو نعمتوں کے نہ ہونے پر دل چھوٹا کر لیتا ہے اور ناشکرا بن جاتا ہے

••• اگر انسان حاصل شدہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا شروع کرے تو آخری سانس تک ادا نہ کر سکے پتا نہیں ناشکری کا وقت کیسے نکال لیتا ہے •••

اسلام , صحت , علم , خاندان , حسن و جمال , دوست احباب لاکھوں کروڑوں نعمتوں میں غرق انسان ایک نعمت نہ ملنے پر نا شکرا بن جائے تو اللہ وحدہ لاشریک کے غضب کو دعوت دیتا ہے
شکر ادا کریں کہ شکر سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top