کون کتنا نقصان کر رہا ہے

ذاتی_مطالعہ 15

امام ابن ابی الدنیا کتاب العقوبات میں کچھ فکر انگیز فرامین نقل کرتے ہیں
(1) مالک بن دینار نے فرمایا
جب اللہ رب العزت کسی قوم پر غضب کا ارادہ کرتا ہے تو اس قوم پر بچے مسلط فرما دیتا ہے
دینی و دنیاوی معاملات بچوں کے سپرد ہو جاتے ہیں
پختہ عمر لوگ ہوتے ہوئے بچوں کو ملکی مناصب پر بٹھا دیا جاتا ہے
° دینی مراتب پر شیوخ کے ہوتے ہوئے نوجوانوں کو مقرر کر دیا جاتا ہے °
مثلا مفتی و شیخ الحدیث کے القاب دے دیئے جائیں
ذرا غور کریں کسی نوجوان کو شیخ الاسلام کہا جائے تو کیسا لگے گا
ایسے ہی مفتی و شیخ الحدیث بھی بچوں کا منصب نہیں ہے
بلکہ ابن عبد البر نے علوم الحدیث میں لکھا ہے
چالیس سال سے کم عمر کو محدث نہ قرار دیا جائے ( ملخصا )
(2) امام اوزاعی نے فرمایا
لوگوں نے سب سے پہلے دین میں جس شے کو ناپسند کیا وہ بچوں کا مسجد میں کھیلنا ہے
مگر ہمارے ہاں خود ساختہ مفکرین کہتے ہوئے نظر آتے ہیں پچھلی صفوں سے بچوں کی آواز نہ آئے تو اگلی نسل خراب ہوجاتی ہے
(3) امام مکحول فرماتے ہیں
لوگوں کے لیئے جس کا وعدہ ہے یعنی قیامت تب تک نہیں آئے گی جب تک ان کا عالم گدھے کی لاش سے بھی زیادہ برا نہ ہو جائے!
فی زمانہ خرابی کی بڑی وجہ بچوں کا علمی مناصب پر بیٹھنا ہے
نہ تدبیر نہ حکمت نہ سنجیدگی نہ دور اندیشی نہ ماضی پر نظر نہ اسلام کے مستقبل کی فکر بس جو شے دل کو نہ بھائی اسے سوشل میڈیا پر خوب رگیدتے ہیں
یہی وجہ ہے میں سمجھتا ہوں یہ وہی وقت ہے جس ذکر امام مکحول نے فرمایا ہے
اپنی نادانی میں اسلام کا حیثیت سے بڑھ کر نقصان یہ بچے کر رہے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top