ذاتی_مطالعہ 48
حضرت امیرِ معاویہ رضی الله عنہ سے پوچھا گیا
آپ عقل کی کس انتہاء تک پہنچے ہیں ؟
فرمایا
ما وَثِقْتُ بأحدٍ قطّ
میں عقل کی اُس انتہاء تک پہنچ چکا ہوں کہ اب کسی ایک پر بھی اعتبار نہیں کرتا
{شرح لامية العجم للدميرى}
یہ تب کی بات ہے جب لوگ آج سے ہزار گنا بھلے تھے جبکہ آج کل تو کسی پر اعتبار نہ کریں خاص طور پر پیسوں کے لحاظ سے کہ لوگوں کا دین و ایمان پیسہ ہے
مذہبی طبقہ بھی پیسوں کے لین دین میں لیتے وقت عاجزی و انکساری کا پیکر اور دیتے وقت فرعون بن جاتا ہے
شرمِ نبی خوفِ خدا کچھ بھی نہیں
پیسہ , راز , عزت کے معاملے میں کسی پر اعتبار نہ کریں ورنہ ان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
