عجائباتِ_عالم 51
مراکش میں الجنین النائم کی کہانیاں صدیوں سے مشہور ہیں
جن کے مطابق ماں کے پیٹ میں معمول سے ہٹ کر بچہ وقت گزارتا ہے
یعنی نو ماہ سے زیادہ ایک سال دو سال بلکہ آٹھ دس سال تک ماں کے پیٹ میں بچہ رہتا ھے
جبکہ سائنسی لحاظ سے بچہ مقرر وقت سے زیادہ سے زیادہ و یا تین ہفتے پیٹ میں رہ سکتا ھے
اور کم سے کم چھ ماں تک رہتا ہے
اسی وجہ سے سائنسدان الجنین النائم کو فضول کہانی قرار دیتے تھے
مگر 2014 میں ایک مراکشی خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس کے پیٹ میں نو سال سے بچہ ہے
پوری دنیا کے سائنسدان ادھر متوجہ ہوگئے پھر تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ حاملہ نہیں تھی یہ اس کا وھم تھا
اس سے محققین نے اندازہ لگایا کہ افریقہ کے ممالک میں خواتین پر جادو کر دیا جاتا ہوگا جس کی وجہ سے ان کو وھم ہوتا ہوگا کہ وہ حاملہ ہیں اور سالہال کے بعد وہ حاملہ ہوتی تو لوگ کہتے یہ کئی سالوں سے حاملہ تھی
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت کم کئی کئی سال بچہ ماں کے پیٹ میں رہتا ہے
جیسا کہ اعلی حضرت امام اھل سنت نے فتاوی رضویہ جلد 13 صفحہ 270 پر ارشاد فرمایا
امام سرخسی نے مبسوط میں فرمایا
امام ضحاک اپنی والدہ کے پیٹ میں چار سال رہے جب وہ پیدا ہوئے تو ان کے چار دانت نکل چکے تھے محسوس ہوتا تھا وہ ہنس رہے ہیں
{ اسی وجہ سے ان کا نام ضحاک یعنی ہنسنے والا رکھا گیا }
امام عبد العزیز ماجشونی بھی چار سال ماں کے پیٹ میں رہے
اور بنی ماجشون کی عورتوں کی عادت مشہور ہے کہ بچہ ان کے پیٹ میں چار سال رہتا ہے
یہ تو ان کا ذکر تھا جن کے بچے چار سال پیٹ میں رہتے ہیں مگر برطانیہ کے مشہور میگزین ڈیل میل نے 20اگست 2014 میں ایک خبر شائع کی انڈیا کے صوبہ مہاراشٹر کی کانتا بائی 24 سال کی عمر میں حاملہ ہوئی یہ 1978 کی بات تھی
وہ ڈاکٹر کے پاس گئی تو ڈاکٹر نے کہا یہ حمل نقصان دہ ہے اس سے نجات پا لو مگر اس نے انکار کر دیا کہ میرے پیٹ میں کچھ بھی نہیں ہے
36 سال بعد اسے وہی درد محسوس ہوا تو ڈاکٹر کے پاس گئی ڈاکٹر نے چیک کر کے بتایا کہ تمہارے پیٹ میں بچے کا ڈھانچہ موجود ہے
اس واقعے سے سائنسدانوں کو مراکش کی مشہور کہانی الجنین النائم کی کچھ نہ کچھ حقیقت معلوم ہوئی کہ ماضی میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں
بچے کی ماں کے پیٹ میں عمر نو ماہ ہوتی ہے اور جو بچہ نو ماہ سے کم میں پیدا ہو اھلِ عرب اسے خدیج اور بچی ہو تو خدیجہ کہتے ہیں
ذخائر العقبی میں ہے کہ
امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنھما کی پیدائش کے درمیان چھ ماہ کا وقت ہے
حضرت سیدنا عیسی علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی اور انسان نہیں ہے جو چھ ماہ کی مدت میں پیدا ہو کر زندہ رہا ہو
چھ ماہ میں پیدا ہونے والے بچے زندہ نہیں رہتے ہیں
اللہ رب العزت کی شان ہے وہ چاہے تو چار سال بچہ ماں کے پیٹ میں رہے اور چاہے تو بچہ نو ماہ سے کم ہو کر خدیج کہلائے
یہ جہان عجائب و غرائب سے بھرا ہوا ہے یہاں سچ جھوٹ ہوجاتا ھے اور جھوٹ سچ ہو جاتا ھے
اور یہی علم ہے جس کو آپ جھوٹ سمجھتے ہوں وہ کسی زمانے میں وجود رکھتا ہوتا ھے
سیروا فی الارض
✍️ #سیدمہتاب_عالم
