یادِ_حضور 46
فأومأ إلي بيده أن ادن فدنوت ثم أومأ إلي أيضا أن ادن فدنوت حتى أسبل علي من الثوب الذي كان عليه
حضور جانِ عالم صلی الله عليه وسلم اپنے دستِ مبارک سے میرے طرف اشارہ فرمایا کہ پاس آؤ تو میں قریب ہوا پھر مزید اشارہ فرمایا میں اور قریب ہوا حتی کہ حضور سیدِ عالم صلی الله عليه وسلم نے مجھ پر وہ کپڑا ڈال دیا جو خود اوڑھا ہوا تھا
« مستدرک للحاکم »
حذیفہ بن یمان اپنی خوشی بیان فرماتے ہوئے
آگے والے الفاظ اور مزے کے ہیں
فلم أزل نائما حتى أصبحت
میں سویا رہا حتی کہ صبح ہو گئی
الله الله
الله الله
کیسی شانِ کریمی ہے اور کیسی قسمتِ امتی ہے
غور تو کریں کہ جو نورانی لباس حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوڑھا ہوا تھا وہی سیدی حذیفہ بن یمان کو اوڑھائے رکھا
اسی حالت میں رات گزاری
اُس دامنِ اطہر میں چھپنا سونا اور جنت کے مزے لینا
ہائے کیا قسمت پائی
استادِ زمن کہتے ہیں
ڈھونڈھا ہی کریں صدرِ قیامت کے سپاہی
وہ کس کو ملے جو تِرے دامن میں چھپا ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم
