وائس ریکارڈ کرنے والے اصل مسلمان علماء تھے

اسلامی_سائنس 13

••• میلاد النبی کا وقت بتانے والی صدیوں پرانی میلادی گھڑی •••

چوروں کی بہت سی اقسام ہیں ان میں سے مال کا چور اتنا بڑا مجرم نہیں بلکہ مال کے چور سے بدتر اور اقسام بھی ہیں
نماز کا چور اس کی نماز مردود ہے,
شریعتِ مطہرہ کے حقیقی معانی کا چور اس کا فتوی مردود ہے,
ان بدتر چوروں میں ایجادات کا چور بھی ہے جو اپنی طرف وہ منسوب کرے جو کام اس نے کیا ہی نہیں ہے
اس کی ایجادات کسی اور کی ہوتی ہیں
مشہور امریکی سائنسدان تھامس ایڈیسن ایجادات کے چوروں میں سر فہرست ہے
آج میں آپ کو جو حیران کر دینے والی حقیقت بتانے لگا ہوں وہ آپ کو یقینا حیران کر دے گی
فونوں گراف جو گراموفون بنا پھر آڈیو ریکارڈنگ قرار پائی اس کا بانی تھامس ایڈیسن کو کہا جاتا ھے
جس کی وفات 1931 میں ہوئی یعنی ابھی اسکی وفات کو ایک صدی بھی مکمل نہیں ہوئی
یعنی آڈیو ریکارڈنگ کا بانی تھامس ایڈیسن کو کہا جاتا ھے جو کہ سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے
تھامس ایڈیسن سے کئی صدیاں پہلے مسلمان سائنسدان نے آڈیو ریکارڈ ایجاد کر لیا تھا
جی ہاں اڈیو ریکارڈنگ کے بانی مسلمان ہیں اور ویڈیو کی اصولوں کے موجد بھی مسلمان ہیں
اور دنیا اس وقت ان دو چیزوں کی ایسے محتاج ہے جیسے انسان کھانے پینے کا محتاج ہوتا ھے
تو آپ غور کریں مسلمان علماء کا اس جدید دنیا کے قیام میں کتنا بڑا ہاتھ شامل ہے؟
امام فقیہ محدث مؤرخ عبد اللطیف البغدادی (جن کی وفات 629 ھجری میں ہوئی یعنی آج سے آٹھ سو سال پہلے)
انہوں نے ایک گھڑی سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے الملک الکامل کے لیئے بنائی جس کا نام شمعدان رکھا گیا
رات کے ایک گھنٹہ گزرنے پر گھڑی میں سے ایک شخص نکلتا تھی جو ایک گھنٹہ ہونے کی خبر دیتا تھا

اور جب فجر کی نماز کا وقت ہوتا تو وہ شخص پھر نکلتا اور بلند آواز سے عربی زبان میں کہتا
صبح الله السلطان بالسعادة
اللہ رب العزت سلطان کی صبح سعادت والی کرے!

تو سلطان کو فجر ہونے کی خبر ہوجاتی تھی

( اس بات کو اعلام زرکلی میں لکھا ھے )

اور فقہ مالکی کے عظیم محدث و فقیہ و اصولی امام شھاب الدین القرافی

(جن کی پیدائش عبد اللطیف البغدادی کی وفات کے تین سال بعد ہوئی اور وفات 684 ھجری میں ہوئی)

نے اپنی کتاب ( نفائس الاصول فی شرح المحصول ) میں عبد اللطیف بغدادی کی گھڑی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا,
میں نے شمعدان نامی گھڑی کو دیکھا اور اس میں مزید کچھ اضافہ یہ کیا
کہ,
ہر گھنٹے بعد شمع کا رنگ بدلتا ھے اور اس میں ایک شیر ہے جس کی آنکھیں انتہائی سیاہ ہیں جو آہستہ آہستہ انتہائی سفیدی میں بدل جاتی ہیں پھر انتہائی سرخ ہوجاتی ہیں,
ہر گھنٹے میں آنکھوں کا ایک رنگ ہوتا ھے اور دو کنکریاں دو پرندوں سے گرتی ہیں, اسی وقت ایک شخص دروازے میں اندر چلا جاتا ھے اور دوسرا باہر اجاتا ھے,
اور جب فجر کا وقت ہوتا ھے تو ایک شخص باہر نکلتا ھے جو اپنی انگلیاں کانوں پر رکھے ہوئے ہوتا ھے یہ اذان کا اشارہ ہے
مگر میں اس کو کلام کروانے سے عاجز رہا ہوں

یعنی جیسا کلام عبد اللطیف البغدادی کی گھڑی میں ہوتا تھا وہ شخص بلند آواز سے پکارتا تھا, صبح الله السلطان بالسعادة میں اپنی گھڑی میں اپنے روبوٹ سے کلام نہیں کروا سکا!

مزید آگے فرمایا
میں نے ایک حیوان بنایا جو چلتا پھرتا تھا اور دائیں بائیں دیکھتا تھا مگر میں اسے بھی کلام نہیں کروا سکا

آپ اندازہ کریں کہ مذکورہ دونوں افراد اپنے وقت محدث مفسر فقیہ یعنی مکمل مولوی تھے بلکہ ساتھ ساتھ عظیم سائنسدان بھی تھے؟

اور آواز ریکارڈ کرنے میں امام عبد اللطیف البغدادی دنیا کے پہلے شخص تھے جس کا اقرار امام قرافی نے بھی کیا کہ ان کی بنائی ہوئی گھڑی سے صبح الله السلطان بالسعادة کی ریکارڈڈ آواز روز فجر کے وقت آتی تھی!

اسی طرح ابو الحسن علی بن احمد المعروف ابن الفحام (جن کی وفات 760 ھجری ھے) نے عجیب و غریب گھڑی بنائی تھی
جس کا ذکر مشہور مورخ ابن خلدون نے بغیۃ الرواد میں کیا,
اس گھڑی کا نام منجانة تھا
اس میں سے ایک خوبصورت لڑکی کی مورتی نکلتی اس کے ہاتھ میں ایک رقعہ ہوتا تھا اور ایک ہاتھ وہ منہ پر رکھتی تھی گویا کہ خلیفہ کی بیعت کا اقرار کر رہی ہو

اور اس گھڑی کی سب سے عجیب بات یہ تھی کہ یہ میلاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن آنے کی خبر دیتی تھی کہ میلاد پاک کے دن میں کتنے گھنٹے باقی رہ گئے ہیں

الجزائر کے سلطان ابو حمو نے اپنے بیٹے کو وصیت کی تھی کہ شعائر اللہ کے قیام میں سستی نہ کرنا اور میلاد پاک کی رات کے صدقے دعاء مانگا کرو

اس بادشاہ کی اس حسنِ نیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ گھڑی بنائی گئی تھی جو میلاد کی رات کے آنے کی خبر دیا کرتی تھی!

علاء بن شاطر (جن کی وفات 777ھجری میں ہوئی) انہوں نے ایک دنیا بھر کا نقشہ ایک گیند پر بنایا تھا,

جس بھی ملک پر انگلی رکھی جاتی اس کا نام عربی زبان میں بولا جاتا تھا
یعنی ٹچ سسٹم اور ریکارڈ سسٹم آج سے سات سو سال پہلے مسلمانوں سائنس دان بنا چکے تھے

مگر احساس کمتری کے مارے لوگ آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ علماء نے اس دنیا کو کیا دیا؟

👈مذکورہ تمام سائنسدان علماء ہی تھے

انہوں نے تو اتنی عظیم ایجادات امت کو دے دیں مگر عوام سنبھال نہ سکی بلکہ ان کا نام ہی موجدین کی فہرست سے نکال باہر کیا!

آج کا نواجوان سمجھتا ھے الارم والی گھڑی 1787 میں لیفی نے ایجاد کی جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے
الارم والی گھڑی آج سے نو سو سال پہلے عبد اللطیف البغدادی بنا چکے تھے!
اسی طرح آڈیو ریکارڈ کا بانی تھامس ایڈیسن کو شمار کیا جاتا ھے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے جو ہم نے اوپر بیان کی کہ وائس ریکارڈ کا نظام عبد اللطیف البغدادی بیان کر چکے تھے

مگر انگریزوں نے مسلمان علماء کی تحقیقات کو چوری کیا اور پھر اپنے نام سے شائع کر دیا
اور مسلمان علماء کی ایجادات کو چوری کیا اور اپنے نام سے پھیلا دیا
یہ صرف اس وجہ سے کہ نواجوان خواب غفلت کے شکار ہیں
مادیت کے پیچھے پڑے ہیں اور ماضی کو بھول کر مستقبل کی تعمیر کرنے سے عاجز آ چکے ہیں

کیا کیا بتاؤں مجھے سمجھ نہیں آتی
بس اتنا کہ
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top