مہرِ فاطمی

فقہِ_رضا 4

امامِ اھلِ سنت سے سوال ہوا
نکاح کے وقت مہرِ فاطمی کا ذکر ہوا تو شوہر پر مہر کونسا واجب ہوگا ؟
مہرِ فاطمی واجب ہوگا یا مہرِ فاطمی کے بارے روایات کے اختلاف کی وجہ سے مہرِ مثل واجب ہوگا ؟
جواب میں امامِ اھلِ سنت نے تحقیق کے دریا بہا دیئے ہیں
اول تو یاد رکھیں کہ صدیوں سے مسلمانوں کی اھلِ بیت سے محبت ہے کہ مہرِ فاطمی کا ذکر و تقرر کرتے آئے ہیں تاکہ دلہنوں کو سیدہ فاطمہ زھراء کے مبارک نکاح سے برکتیں ملیں
دوم صدیوں سے اعلی حضرت تک کوئی محقق یہ نہیں کہنے والا تھا کہ مہرِ فاطمی ہی کیوں ؟
اس طرح کرنے سے رافضیت و تفضیلیت کو تقویت ملتی ہے
یہ گھٹیا سوچ آج کے چند متمحقین کی خود ساختہ ہے جنہوں نے سنیت میں رافضیت فوبیا و تفضیلیت فوبیا کی بیماری کو پھیلا دیا ہے ان بد بختوں کو اھلِ بیت کی ہر شان تفضیلیت لگتی ہے
بہر حال
امام اھلِ سنت نے جواباً فرمایا
سوال کے مطابق مہرِ فاطمی ہی رہے گا
تحقیقی وضاحت میں فرمایا کہ اس بارے تین روایات مستند ہیں
{1} مہرِ مبارک درھم و دینار نہ تھے بلکہ ایک زرہ کہ حضور پُرنور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت امیر المومنین مولی المسلمین کرم اللہ وجہہ الکریم کو عطاء فرمائی تھی وہی مہر میں دی گئی
! یہاں بڑی قابلِ غور بات ہے کہ اعلی حضرت نے جہاں بھی مہر کا ذکر کیا وہاں بڑے با ادب انداز سے ذکر کیا ہے مثلاً _مہرِ مبارک_ یا مہرِ اقدس یا *مہرِ کریم*

{2} وہ مہر مبارک چار سو اسی درھم تھے یعنی وہ زرہ مبارک بیچی گئی جس کی قیمت چار سو اسی درھم بنے تھے
{3} وہ مہر مبارک چار سو مثقال چاندی تھی
آخر میں روایات ذکر کرنے کے بعد فرمایا
پس حاصل یہ قرار پایا کہ اصل *مہر کریم* جس پر عقدِ اقدس واقع ہوا چار سو مثقال چاندی تھی
زرہ برسمِ پیشگی وقت زفاف دی گئی کہ بحکمِ اقدس چار سو اسی درھم کو بِکی
ایک مثقال ساڑھے چار ماشہ کے برابر ہے
نکاحِ مبارک میں زرہ مہرِ معجل تھی
❗ فتاویٰ رضویہ جلد جلد 12 ص 155 ❗
یہ اعلی حضرت کا خاصہ ہے کہ فقہی باریکیاں یوں بیان فرماتے ہیں کہ جہالت کی تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں
فتاوی رضویہ پڑھیں تفقہ پیدا ہوگا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top