مٹ جائے یہ خودی تو

عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 99

العاشق ليس وحيداً أبداً فمعشوقه معه بداخل روحه على الدوام
عاشق کبھی تنہاء نہیں ہوتا کیونکہ اس کا محبوب ہمیشہ اس کی روح میں بستا ہے

❗ الرومي ❗
جیسے گلاب میں خوشبو ہوتی ہے مگر نظر نہیں آتی
گلاب پھولوں کا بادشاہ بغیر خوشبو کے بے کار ہے اس کی خوشبو ہی اسے بادشاہ بناتی ہے
ایسے ہی محب کی روح میں ہر وقت محبوب نہ بستا ہو تو محبت فضول اور محب بے کار ہے
مُحِب کے نفس نفس میں ہر ہر ادا میں تمام افعال میں محبوب کی جھلک نہ نظر آتی ہو تو مُحب نہیں کذاب ہے

فناء اتنا تو ہو جاؤں میں تیری ذاتِ عالی میں
جو مجھ کو دیکھ لے اس کو تیرا دیدار ہو جائے

اقول و افعال و حرکات و سکنات میں محبوب کی نقل کرنا محبت ہے

اولاً فناء فی المرشد پھر فناء فی الرسول پھر فناء فی اللہ ہوا جاتا ہے
حسان الھند فرماتے ہیں

مِٹ جائے یہ خودی تو وہ جلوہ کہاں نہیں
دردا میں آپ اپنی نظر کا حجاب ہُوں

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top