تصوف_وصوفیاء 31
خالد بن معدان فرماتے ہیں
ما من آدمي إلا وله أربعة أعين عينان في رأسه يبصر بهما أمر الدنيا وعينان في قلبه يعني يبصر بهما أمر الآخرة فإذا أراد الله بعبد خيرا فتح عينيه اللتين في قلبه فأبصر بهما ما وعد بالغيب فأمن الغيبُ بالغيْبِ
ہر آدمی کی چار آنکھیں ہوتی ہیں
دو آنکھیں سر میں جن سے بندہ دنیاوی اشیاء دیکھتا ھے
اور دو آنکھیں دل میں جن سے بندہ آخرت کے معاملات دیکھتا ھے
جب اللہ رب العزت بندے کی خیر چاہتا ھے تو
اُس کی دل والی دونوں آنکھیں کھول دیتا ھے
اور اللہ تعالیٰ بندے کو قلبی آنکھوں کے ذریعے وہ پوشیدہ چیزیں دکھاتا ھے جس کا رب نے بندے سے وعدہ کیا ہوتا ھے
تو پوشیدہ یعنی قلبی آنکھیں پوشیدہ یعنی آخرت کے انعامات کو دیکھ لیتی ہیں
{تهذيب الكمال}
یاد رکھیں قلبی آنکھیں اُس کی کھلتی ہیں جو بھوک پیاس برداشت کرتا ھے
اور راتوں کو دیر تک اللہ کی یاد کرتا ھے
اکثر پیٹ بھرنے والا زیادہ سونے والا ولی نہیں ہو سکتا
بھوک ایسی کمال کی شے ہے کہ کافر و فاسق بھی اسے بطورِ ریاضت استعمال کرے وہ بھی بہت سی خوبیوں کا حامل بن جاتا ہے
انسان کے باطن کی آنکھیں ان چار چیزوں سے کھلتی ہے
کم کھانا
کم بولنا
کم سونا
کم لوگوں سے ملنا
آپ چالیس دن یہ چار چیزیں خود پر نافذ کریں پھر اپنے علم و حلم میں تبدیلی خود محسوس کریں گے
باطنی آنکھیں ان چار سے کھل جائیں گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
