مسلمانوں کے دل ٹیڑھے ہونے کے اسباب

اسلامی_طرزِتربیت 17

ـــــــ دُم رکھنے والے انسان ـــــــ

لو اطلع الناس على مافي قلوب البعض لما تصافحوا إلا بالسيوف

سیدی عمر فاروق اعظم سے منسوب ایک قول ھے
اگر لوگ ایک دوسرے کے دِلوں کو جان لیں تو ملاقات کے وقت تلواریں نکال کر بات کریں
یعنی لوگ ایک دوجھے سے خوب منافقت اور فریب سے ملتے ہیں
دل میں کچھ اور ظاہر کچھ اور کرتے ہیں

سیدی حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ
اگر منافق کی دُم ظاہر ہوتی تو
انسان کو زمین پہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہ ملتی

کیونکہ ہر بندہ ہی منافق ھے

جس کا نفاق زیادہ اسکی دم بھی بڑی ہوگی

اللہ تعالی ہمیں منافقت جیسے غلیظ مرض سے پاک کرے اور پاک رکھے
حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
يكون في آخر الزمان اقوام إخوان العلانية اعداء السريرة فقيل يا رسول الله فكيف يكون ذلك ؟
قال:
ذلك برغبة بعضهم إلى بعض ورهبة بعضهم إلى بعض
آخری زمانے میں لوگ ظاہر میں دوست اور اندر کے دشمن ہوں گے
عرض کی گئی
یہ کیسے ہوگا ؟
فرمایا
کچھ لوگوں کو دوسروں کی طرف رغبت ہونے کی وجہ سے اور کچھ سے خوف کی وجہ سے
❗مسند احمد ❗
یعنی مطلب کی دوستی ہوگی
کسی سے غرض ہونے کی وجہ سے سلام دعاء ہوگی کسی سے خوف کی وجہ سے سلام دعاء ہوگی

الغرض زمانہ نفاق سے بھرا ہوا ہوگا
آج وہی زمانہ ہے غرض سے تعلق قائم ہیں اور غرض سے سلام دعاء ہوتی ہے
ایک دوسرے کے دل نفرت و کدورت ست بھرے پڑے ہیں
اس کی ایک خاص وجہ نماز میں صفوں کو سیدھا نہ رکھنا بھی ہے
جیساکہ حدیث شریف میں آیا
لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم
تم اپنی صفوں کو لازمی درست کیا کرو ورنہ الله رب العالمین تمہارے دِلوں کو ایک دوسرے سے پھیر دے گا
❗بخاری شریف ❗
دوسری حدیث شریف میں فرمایا
وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَهُ اللَّهُ وَمَنْ قَطَعَهُ قطعه الله
جو صف سیدھی کرے الله اسے ملائے اور صف کاٹے الله اسے کاٹے گا
❗ابو داؤد شریف ❗
معلوم ہوا
مسلمانوں کے دِلوں میل و کجی آنے کا ایک سبب مسجد میں نماز پڑھتے وقت صفوں کو سیدھا نہ کرنا ہے
جب محلے کے مَردوں کے دل ٹیڑھے ہوں گے تو ان کی خواتین کے دل بھی آپس میں سیدھے نہیں ہوں گے
پھر محلے داری بھی ہوتی تو میل جول بھی رکھنا پڑتا ہے یوں ظاہری سلام دعاء” پیار محبت” لیں دین” خوشی غمی میں شرکت سب کچھ ہوتا ہے مگر دِلوں میں مَیل ہوتا ہے
لہذا نماز میں صفیں درست رکھیں
دِلوں کے ٹیڑھا ہونے کا دوسرا سبب
مال و دولت جمع کرنے میں مقابلہ کرنا ہے
دنیا ذلیل و رسوا شے ہے اس پر مقابلہ کرنے والے حسد و کینہ کے شکار ہو جاتے ہیں
دِلوں کے ٹیڑھا ہونے کا تیسرا سبب
سیاسی گفتگو اور سیاسی رہنماؤں کی بے جا حمایت ہے
اس کے سبب دل ایک دوسرے کے لیئے بغض و عداوت سے بھر جاتے ہیں
ایسے مزید اسباب بھی ہیں
غور و فکر کرنے والے پر کھل کر سامنے آجاتے ہیں
دل صاف رکھیں جنت میں داخلہ آسان ہو جائے گا

جیسا کہ حدیث شریف میں آیا
يدخلُ الجنَّةَ أقوامٌ أفئِدَتُهُم مثْلَ أفئِدَةِ الطيرِ
جنت میں وہ لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دِلوں جیسے ہوں گے
❗مسلم شریف ❗
یعنی رقت و نرمی میں ” بغض و عناد و نفرت سے پاک ہونے میں پرندوں سے دل ہوں گے
دل صاف تو جنت کا راستہ صاف ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top