مرشد کو گالی نہ دو

تصوف_وصوفیاء 72

سیدی احمد الرفاعی رضى الله عنه نے اپنے مریدین کو فرمایا
میرے بعد مجھے گالی نہ دینا
مریدین عرض کرنے لگے
ہم آپ کو کیسے گالی دے سکتے ہیں آپ کو ہمارے مرشد کریم ہیں
فرمایا
تم وہ بات کہو جو میں نے نہ کہی ہو اور وہ کام کرو جو میں نہ کیا ہو تو لوگ کہیں گے اگر انہوں نے اپنے مرشد سے سنا نہ ہوتا اپنے مرشد کو یہ کام کرتے نہ دیکھا ہوتا تو یہ لوگ ایسا کام نہ کرتے تو لوگ مجھے گالی دیں گے

اعلموا ٲن ڪل شيء خرج عن ڪتاب الله وسنة رسوله ﷺ فليس مني وٲنا بريء منه
جان لو ہر شے جو قرآن و حدیث سے خارج ہے وہ میری طرف سے نہیں ہے اور میں اس سے بری ہوں
ارادت { مرید ہونے } کی پہلی شرط قول و فعل میں مرشد کی پیروی اور باقی سب سے آنکھیں بند کر لینا ہے
بیعت کا مطلب بِک جانا ہے اگر آپ کسی کے ہاتھوں میں بِک گئے تو بس اسی کے ہو کے رہ جائیں
ہزار زمانہ چڑھتے سورج کو سلام کرے بڑھتے جمِ غفیر کے پیچھے نہ چلیں
کسی کا اندازِ بیاں نہ دیکھیں
کسی کی بڑھتی تعداد نہ دیکھیں
اور اپنے مرشد کے قول و فعل کے خلاف نہ جائیں کہیں آپ کی وجہ سے آپ کے مرشد کو برا کہا جانے لگے
جب ٹھوک بجا کے پیر بنایا ہے تو یقین رکھیں ان کا کوئی کام سنت کے خلاف نہیں ہے اور خود بھی خلافِ سنت کام نہ کریں ورنہ آپ کے پیر کو برا کہا جائے گا
اسی درِ مرشد سے سعادتِ دارین ملے گی
سیدی ابوالحسن الشاذلی فرماتے ہیں
عليك أيها المريد بالعكوف على أعتاب شيخك
اے مرید تجھ پہ لازم ہے کہ اپنے مرشد کی چوکھٹ پر دھرنا مار کے بیٹھ جاؤ

دل مرشد کے ہاتھ میں دے دیں عقل کی لگام بھی حوالے کر دیں
تعجب ان مسخروں پہ ہے جو بِکتے کسی کے ہاتھ پہ ہیں اور گُن کسی اور کے گاتے ہیں
مرشد کوئی ہے جبکہ کام کسی اور کا کرتے ہیں
روح کا مربی کسی کو بنایا قصیدے کسی اور کے گاتے ہیں

الحمد للہ
ہم درِ مرشد سے ہٹے نہیں بٹے نہیں
جب سے امیرِ اھلِ سنت کے ہاتھ میں ہاتھ دیا پھر کسی اور کو نظر اٹھا کے دیکھا ہی نہیں
ہم نے امیرِ اھلِ سنت سے شریعت و طریقت سیکھی علماء کرام کی تعظیم و تکریم سیکھی
الحمد للہ ہم عطاری ہیں نہ ہمارے عقیدے میں کھوٹ نہ عقیدت میں غداری ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top