تصوف_وصوفیاء 73
امام قشیری نے الله رب العزت کے صفاتی نام المعز کی شرح میں ایک نفیس قصہ ذکر کیا
ایک شیخ شہر کے حاکم کے پاس تشریف لے گئے تو دیکھا کہ لوگ کھڑے ہیں ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں صرف ایک آدمی آ جا رہا ہے حتی کہ حاکم کی بیوی کے پاس بھی بلا اجازت و پردہ داخل ہو جاتا ہے
شیخ نے کہا
یہ کون ہے جسے ہر جگہ داخل ہونے کی اجازت ہے
کسی نے بتایا
اس کا آلہَ شہوت نہیں ہے
یعنی یہ مخنث ہے
شیخ نے فرمایا
سبحان من وعظنى بعد سبيعن سنة ان من أراد الدخول على مولاه فعليه بترك الشهوات
پاک ہے وہ ذات جس نے مجھے ستر سال بعد نصیحت فرمائی کہ جو اپنے مولا تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں داخل ہونا چاہتا ہے وہ شہوتوں کو ترک کر دے
الله الله
کیا ہی کمال کا نکتہ ہے
جیسے وہ شخص جس کی شہوت ختم ہوگئی شہوت کا آلہ ہی ختم ہوگیا وہ اپنے مالک کے پاس بغیر روک ٹوک داخل ہو رہا ہے ویسے ہی وہ مومن جو دنیاوی شہوات و خواہشات ترک کر دے گا مولا تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچا دیا جائے گا
خواہشات کا بوجھ آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے
شہوات کا بوجھ روحانی منازل سے گرا دیتا ہے
جو اس بوجھ سے خالی رہتا ہے اس کے قدم تیز اٹھتے ہیں اور پرواز بلند ہوتی ہے
خواہش رکھیں تو دیدارِ الٰہی کی رکھیں
شہوت رکھیں تو جنتی کھانے پینے کی رکھیں
شہوتوں کی کثافت آپ کی روح کا نور چھپا دیتی ہے
جس کی عقل پہ شہوت کے پردے ہوں اس کا دل ظلمتوں میں بھٹکتا ہے اور بارگاہِ الٰہی سے محجوب رہتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
