طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 109
علم خوش بیانی و شعلہ بیانی و سحر بیانی و فصیح اللسانی سے آتا تو واعظین و مقررین کو سننے والے محدث و فقیہ بن چکے ہوتے
مگر یاد رکھیں خوش بیانی و شعلہ بیانی صرف ایک چسکا ہے
علم کی دقیق مباحث فصیح اللسانی سے نہایت قلیل کوئی کوئی بیان کر سکتا ہے
آپ اکابر علماء جو بہترین مدرس ہوں ان کی روانی دیکھ لیں اور ایک نوٹ چھاپنے والی مشین مقرر کو دیکھ لیں
آپ کو کہنہ مشق مدرس کا انداز اس میں آگے پیچھے ہوتے الفاظ بسا اوقات بے ربط کلمات علوم و فنون کے موتی دیں گے
جبکہ مقرر کے مرصع و مسجع الفاظ صرف کانوں کو بھلے لگے گے جبکہ اس کی مجلس سے اٹھیں گے ایک واقعہ بے سند حکایت اور سُر کی چاشنی لیکر اٹھیں گے
جب عوام نے علوم سیکھنے میں اپنے چسکے کو مقدم رکھا تو علوم نہیں ظنون کا خزانہ پایا
ان میں میں ایک قسم واعظانہ نکتے سننے والی عوام بھی ہے
جو مقرر کے وجدان اور اللہ رب العالمین کی ذات پاک کی قسمیں کھانے والے مقررین اور مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین کی قسمیں کھانے والے کذابین کے نکتوں سے متاثر ہو کر مقرر کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں
لہذا طلباء علم دین ایسے واعظانہ و وجدانی نکتوں سے دور رہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
