طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 108
طلباءِ علمِ دین کے لیئے پیٹ بھر کر کھانا زہرِ بے تریاق ہے
جس طالبِ علم کو پیٹ بھر کر کھانے کی عادت ہو وہ دینی تعلیم چھوڑ دے یہی بہتر ہے
کیونکہ پیٹ بھرے کا علم علمِ فاسد علم غیر نافع ہوتا ہے
آپ میری بات سے اختلاف کر سکتے ہیں
مگر صوفیاء کرام کے بھوک پر اقوال اور پیٹ بھر ک کھانے کی مذمت پر احادیث کا انکار نہیں کر سکتے
پیٹ بھرا شخص نفسانی خواہش کا غلام اور شیطان کا بندہ بن جاتا ہے
اس کی
طبعیت بھاری اور سستی کی کثرت سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے
سیدی سفیان ثوری نے فرمایا
ﻛﻞ ﻣﺎ ﺷﺌﺖ ﻭﻻ ﺗﺸﺮﺏ ﻓﺈﺫا ﻟﻢ ﺗﺸﺮﺏ ﻟﻢ ﻳﺠﺌﻚ اﻟﻨﻮﻡ
جو مرضی کھاؤ مگر پانی نہ پینا کیونکہ جب تو پانی نہ پیئے گا تو نیند تیرے پاس بھی نہیں آئے گی
❗جامع العلوم والحكم ❗
صوفیاء کرام کے نزدیک تین چیزیں بنیادی ہیں
کم کھانا*
کم سونا
*کم بولنا
یہ اولیاء کرام کی عادات میں سے اہم ترین عادتیں ہیں
جس طالب علم میں کم کھانا کم سونا کم بولنا ہو اسے اپنے زمانے کے طلبہ سے اعلی و فائق ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
