کامیاب_خواتین 36
ہمارے گھر کے سامنے آٹھ یا دس قدم پر بالکل سامنے خواتین کا کالج ہے
خواتین کا کالج نہیں کہنا چاہیئے طوائفات کہنا چاہیئے
کل سے کنجر خانہ مچا رکھا ہے
ناچ رہی ہیں ,چیخ و پکار کر رہی ہیں, ہلڑ بازی کر رہی ہیں
ڈھول کی تھاپ پر باقاعدہ ناچ رہی ہیں
تعجب ہوتا ہے
پھر یہی جب باہر نکلتی ہیں نقاب برقعے میں عفت مآب ہونا دکھاتی ہیں
ان کے سرپرست جو لینے آتے ہیں داڑھیوں والے بھی ہوتے ہیں
بے شمار لڑکیاں تنہاء آتی ہیں گھر سے کب نکلتی ہیں کب پہنچتی ہیں اسی طرح بے شمار اکیلی واپس جاتی ہیں
بلکہ دوسرے شہروں میں جاتی ہیں
کالج حقیقت میں طوائف خانے ہیں جو گورنمنٹ کی سرپرستی میں زنا فحاشی کو عام کرتے ہیں
دیہاتوں سے لڑکیاں رکشوں یا کیری ڈبوں پر آتی ہیں کچھ لڑکیاں دوسرے اسکولز کی میڈمیں ہوتی ہیں
وہ ادھر سے چھٹی کر رکشے یا کیری ڈبہ میں ڈرائیو کے ساتھ اکیلی بیٹھی ہوتی ہیں
کئی بار کا مشاہدہ ہے کہ گزرتے ہوئے نظر آجاتا ہے کہ کھیل کھیلا جا رہا ہے
آگ اور پٹرول ساتھ ساتھ ہوں شعلے گزرنے والے کو بھی محسوس ہوتے ہیں
رہا تعلق والدین اور بھائیوں کا تو نہ وہ سلیم الطبع ہیں نہ غیور النفس ہیں
یہ سب کچھ جاننے کے بعد ہر باپ کو لگتا ہے کالج و یونیورسٹی جا کر میری دھی رانی تو حاجن ہی ہے
آخر میری بیٹی ہے
جناب آپ کی بیٹی ہے تبھی طوائفہ ہے
غیرت مند باپ کی بیٹی ہوتی تو طوائف خانے نہ بھیجی جاتی
میں یہ یقین سے کہتا ہوں
اگر غیرت مند باپ کو ان کے پروگرامز اور جنسی تعلیم و فحاشی بھری صحبت کا پتا چلے یا تو خود کو مار لے یہ ایسی لڑکی کو مار دے
کالج و یونیورسٹی میں لڑکی کے لڑکے سے یاری قطعاً معیوب نہیں ہے اس بات کو وہ سمجھتے ہیں جو اس طوائف خانے میں پڑھ کے آئے ہیں
بلکہ جو لڑکی یا لڑکا کسی تعلق سے خالی ہو تو اسے طعنے مارے جاتے ہیں
سرگودھا یونیورسٹی روڈ پر کبھی جانا ہوتا ہے تو یونیورسٹی کے احاطے میں نا قابل بیان مناظر دکھائے دیتے ہیں
یہ بے غیرتی و دیوثیت و فحاشی کیوں ہے ؟
اصل بات ہے جو لڑکی اپنی عزت لٹا دے اسے پھر عزت کا لفظ ہی چبھتا ہے
صدیوں سے انسان عزت پر جان لیتا دیتا آیا ہے
یہ دورِ انسانیت کا سب سے سیاہ دور ہے جس میں عزت ایک بے معنی شے ہو کے رہ گئی ہے
یہ کل مائیں بنیں گی تو فاتح بیت المقدس جیسا مرد پیدا نہیں کریں گی بلکہ ایکٹر اور ڈانسر پیدا کریں گی
ان کے پیٹ سے محمود غزنوی نہیں پیدا ہوگا بلکہ جنسیت کے درندے پیدا ہوں گے
سو سال پہلے اکبر الہ آبادی نے کہا
تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے فقط سرکاری ہے
بازاری تعلیم ذہن بازاری بناتی ہے اور بچے بھی بازاری پیدا کرتی ہے
کمائیں گے کیا کھائیں گے کہاں سے بس اس سوچ نے حلال و حرام کی تمییز بھلا دی ہے
اسی سوچ نے عزت بھی نیلام کروا دی ہے
ورنہ لڑکی نے اس سو سال میں نہ تو پورے عالمِ اسلام کو دنیاوی تعلیم پڑھ کے فائدہ دیا نہ ملک پاکستان کو فائدہ دیا ہے
لڑکی کی دنیاوی تعلیم قومی ترقی کے لیئے اہم نہیں جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے بلکہ گھریلو کمائی کے لیئے اہم ہے و بس
اسی وجہ سے ہڈ حرام مردوں نے اپنی خواتین کو پڑھائی پر لگا دیا
اب خواتین خواہ عزت بیچ کر کمائی کریں یا پڑھائی کریں کوئی پرواہ نہیں ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
