قومیت کی سوچ سے جہاد کو دہشت گردی کا نام دے دیا ہے

حوادثِ_آخری_زماں 11

سب سے زیادہ دہشتگردی کے شکار کی دہشت گرد قرار

دہشت گردی کا لفظ [ٹیریرزم] یہ چند سال ہوئے ہیں استعمال ہونے لگا ہے
اور وہ بھی صرف مسلمانوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے
تکلیف تب ہوتی ہے جب مسلمان مسلمان کے خلاف یہ لفظ استعمال کرے

ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ جب بھی دہشت گردی کا لفظ استعمال ہو تو داڑھی اور لمبے لمبے بال والے مسلمان ہی ذہن میں ابھرتے ہیں
آپ کسی کو مسلمان کہتے ہوئے دہشت گرد نہیں کہ سکتے کہ مسلم وہی جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں
کیسی کمال کی حکمت تھی کہ چودہ سو سال پہلے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نام ہی مسلم و مومن دیا یعنی سلامتی اور امن والے پھر بھی آپ اپنے مسلمان بھائی کو دہشت گرد کہیں تو محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے
رہی بات ٹی ٹی پی والوں کی تو یہ باغی ہیں
ان کو شریعت کی اصطلاح میں خارجی کہا جاتا ہے اور خوارج کی بنیادی تعارف یہی ہے کہ مسلمانوں کو ماریں گے کفار کو چھوڑ دیں گے
تو کفار کا یہ رونا دھونا ہمیں مارا یہ کیا وہ کیا خوارج کا بھی کام نہیں ہوتا
کیونکہ وہ تو صرف اپنوں کو مارتے ہیں وہ بھی کسی تاویل کے ساتھ نظریہ بنا کر مارتے ہیں
مسلمان دہشت گرد نہیں ہوتا مسلمان کو دہشت گرد کہنا مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے
ہاں یہ خارجی ہوتے ہیں جو اسلامی ملک میں فساد کرتے ہیں بغاوت کرتے ہیں
سرحد پار جا کر نہیں لڑتے
آپ ٹی ٹی پی یا داعش یا بوکو حرام کو دیکھ لیں
یہ سب خبیث اسلامی ملکوں کے اندر فساد ڈالتے ہیں کفار کو چھوڑ دیتے ہیں
جبکہ غیر مسلم دہشت گردی اسے کہتے ہیں جس میں کفار کو مارا جاتا ہے
حالانکہ کفار کو مارنا جہاد ہے
اور جہاد کو دہشت گردی بنانے میں اور چند نادان مسلمانوں کو قومیت کی وجہ سے اپنے ساتھ ملانے میں یہودی کامیاب ہو گئے ہیں
بلکہ اب تو مجموعی سوچ یہی بن گئی ہے جہاں بھی کفار کو مارا جائے دنیا بھر کے مسلمان جہالت کی بناء پر اسے دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہیں
جہاد اور دہشتگردی کا فرق سمجھیں
کیونکہ ایک نکتے کی بات ہے کہ
موجودہ دور میں کوئی کافر ذمی یا مستامن نہیں ہے
سب حربی کفار ہیں
کسی حد تک مستامن ہو سکتے ہیں مگر ذمی کوئی نہیں ہے
تو ان کو مار دینا دہشت گردی ہے یا جہاد اہلِ علم سے پوچھیں
اسی وجہ سے مسلمان جہاد سے دور ہیں کہ عام مسلمان دہشت گردی اور جہاد کا فرق نہیں معلوم کر سکے تو وہ دیکھتے ہیں سوشل میڈیا کیا کہ رہا ہے بس اسی کے مطابق دہشت گردی سے خار کھاتے ہوئے جہاد چھوڑ بیٹھے ہیں
یوں اس امت کی ذلت و رسوائی کا ظاہری سبب پیدا ہوگیا کہ جب جہاد چھوڑ دیں گے رسوا ہوں گے

برما میں بدھ متوں نے جو مظالم ڈھائے مسلمانوں پر دہشتگردی نہیں تھی ؟
کوئی بدھ مت کو دہشت گرد نہیں کہتا

اسرائیل جو غزہ پر کر رہا یے دہشتگردی نہیں ہے ؟
کوئی یہودیوں کو دہشتگرد نہیں کہتا

انڈیا نے پچھلے ستر سال سے کشمیر میں جو ظلم کیئے ہیں وہ دہشت گردی نہیں ہے
کوئی ہندؤں کو دہشت گرد نہیں کہتا

امریکہ نے عراق کو برباد کر دیا افغانستان کو تباہ کر دیا وہ دہشت گردی نہیں ہے
کوئی عیسائیوں کو دہشتگرد نہیں کہتا

چین اسی سال سے ایغور مسلمانوں کو طرح طرح کے مظالم سے ستا رہا ہے وہ دہشت گردی نہیں ہے ؟
کوئی ملحدوں لو دہشت گرد نہیں کہتا
مگر مگر مگر
جو قوم دنیا میں سب سے زیادہ حقیقت میں دہشت گردی کا شکار ہوئی یعنی مسلمان بالخصوص پاکستان کے مسلمان ان کو دہشت گرد اور دہشتگردوں کا آلہ کار کہ دیا جاتا ہے
جب تک آپ اس ساری گیم کو دین و مذہب کے تناظر میں نہیں دیکھیں گے نہیں سمجھ پائیں گے
دنیا میں ہر جنگ مذہبی جنگ ہے اور نشانہ مسلمان ہیں
اس صورت حال میں اخوت کو مضبوط کریں نا کہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیں
کیونکہ آپ نے مر جانا ہے اسلام باقی رہے گا
آپ کی سوچ و فکر آگے منتقل ہوگی اور یہ سوچ لبرل اسلام پیدا کرے گی
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top