اسلامی_طرزِتربیت 5
سیدنا عمر فاروق اعظم نے شام کے شہر حمص سے فقراء و مساکین کے نام طلب کیئے تاکہ بیت المال سے انکی مالی حالت درست کی جائے
جب آپ کے پاس فقراء و مساکین کے نام آئے تو ان میں حمص کے حاکم سعید بن عامر کا نام بھی شامل تھا
عمر فاروق کو بہت تعجب ہوا کہ شہر کا حاکم بھی فقیروں کی صف میں شامل ہے
معلوم کیا تو پتا چلا کہ سعید بن عامر کو جو تنخواہ ملتی تھی وہ فقراء میں تقسیم کر دیتے تھے
تب حضرت عمر فاروق نے ایک ہزار سونے کے سکے بھیجے
حضرت سعید بن عامر نے جب سونے کے سکے دیکھے تو زور زور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے لگے
انکی بیوی نے سنا تو کہنے لگی کہ کیا امیر المومنین عمر فاروق اعظم کا انتقال ہوگیا ھے ؟
سعید بن عامر نے کہا نہیں بلکہ اس سے بھی بڑی مصیبت میرے سر آن پڑی ھے
پوچھا وہ کیا
کہنے لگے کہ دنیا میرے گھر آگئی ھے
اللہ اللہ
شام سے پہلے ان دونوں پاکباز میاں بیوی نے وہ ہزار سونے کے سکے اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالے
ایک وہ حکمران تھے جو اپنی تنخواہ فقیروں پہ خرچ کر کے خود فقیر ہوجاتے تھے
اور ایک ھمارے حکمران ہیں جو اپنا خزانہ بھرنے کے لئیے لوگوں کو فقیر و محتاج کر دیتے ہیں
ٹیکس پر ٹیکس لگا کے عوام کا خون چوستے ہیں
یہ مچھر سے بھی زیادہ ذلیل ہیں کہ مچھر کا پیٹ بھر جائے تو مر جاتا ہے یہ کمبخت مرتے نہیں ہیں بلکہ عوام کو خود کشی پر مجبور کر دیتے ہیں
اصل میں پہلوں کو آخرت کی زندگی پر یقین تھا اور ھمارے حکمرانوں نے دنیا کو آخرت پر فوقیت دے رکھی ھے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
