فطری اصول سے نظر نہ چرائیں

اسلامی_طرزِتربیت 182

دنیا میں مشہور ہونے کے لیئے پہلے گم ہونا پڑتا ہے
اپنے پیچھے چلانے کے لیئے پہلے کسی کے پچھے چلنا پڑتا ہے
نام کمانے سے پہلے بے نام ہونا پڑتا ہے
استاد ہونے سے پہلے شاگرد ہونا پڑتا ہے
حاصل کرنے سے پہلے کھونا پڑتا ہے

الغرض نظامِ حیات و فطری نظام ہے کہ پہلے کچھ دو پھر کچھ ملے گا

آپ کسی انسان سے خواہ کتنا ہی قریبی ہو بغیر کچھ دیئے اس سے نہ عزت لے سکتے ہیں نہ محبت نہ مال لے سکتے ہیں
نہ منصب حاصل کر سکتے ہیں
جو صرف لینا جانتے ہیں وہ ڈاکو ہوتے ہیں

لہذا ڈاکو نہ بنیں بلکہ ایک ہاتھ سے دینے اور دوسرے سے لینے کے فطری طریقہ پر عمل کر کے سکھی رہیں
آپ کسی کو کچھ نہ دیں مگر لینے کی ضد کر کے دکھی بھی نہ ہوا کریں
اخلاق, صدقہ ,منصب ,عزت , محبت , مال دولت , علم
یہ سب اشیاء اسی طرح حاصل کی جاسکتی ہیں
ایک جدید لفظ کہ میں ڈیزرو کرتا ہوں یعنی حقدار ہیں
میں سمجھتا ہوں کہ سنگ دِلوں کا لفظ ہے کیونکہ آپ حقدار نہیں بلکہ امید وار ہیں آپ کے سوا اور بہت سے حقدار ہیں
حسن محبت کا حقدار کیوں ہے ؟ مردانگی کیوں حقدار نہیں ؟
حسن سراہے جانے کا حقدار کیوں ہے ؟
قابلیت کیوں نہیں ؟

تعلیم حقدار ہے تو تجربہ حقدار کیوں نہیں ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top