عربی شاعر نے بہترین بات کہی

اسلامی_طرزِ_تربیت 245

وَمَا يَسْتَوِي النَّاسُ فِي طَبْعِهِمْ
فَهَذَا بَخِيلٌ وَهَذَا كَرِيمْ
لوگ طبیعتوں میں برابر نہیں ہیں
یہ کنجوس تو وہ سخی ہے

وَهَذَا شَرِيفٌ وَهَذَا وَضِيعٌ
وَهَذَا نَبِيلٌ وَهَذَا لَئِيمْ
یہ عزت دار تو وہ گھٹیا ہے
یہ معزز تو وہ کمینہ ہے

وَلِلَّهِ فِي خَلْقِهِمْ حِكْمَةٌ
يَحَارُ بِهَا اللَّوْذَعِيُّ الْحَكِيمْ
مخلوق کی اس تقسیم میں الله رب العزت کی حکمت ہے اس میں انتہائی ذہین و فطین دانا بھی حیران ہے

وَلَوْ خُلِقُوا نَسَقًا وَاحِدًا
لَمَا كَانَ لِلْعَيْشِ أَنْ يَسْتَقِيمْ
اگر سب لوگ ایک ہی طرح کے پیدا کیئے جاتے تو زندگی ٹھیک نہ چل پاتی
مثبت ذہنیت کے مخلص لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ہمیں سہارا دیتے ہیں ہمیں آگے بڑھاتے ہیں
اور منفی ذہنیت کے مکار دشمن طعنے مارتے ہیں اور آگے بڑھنے کا جنون پیدا کرتے ہیں
یہ لوگ سیڑھی کا کام کرتے ہیں جن کی سوچ پر پاؤں رکھ کے انسان بلند سے بلند تر ہوتا جاتا ہے اور یہ نیچے کھڑے سازشیں کرتے رہ جاتے ہیں
الغرض اس دنیا میں دوست بھی مفید ہیں اور دشمن سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے
• تصور کریں سب کنجوس ہوتے تو کیا ہوتا ؟
سب سخی ہوتے تو کیا ہوتا ؟
سب سفید رنگ کے ہوتے یا سیاہ رنگ کے تو کیا ہوتا ؟
ہر منفی و مثبت کائنات کا اہم ترین جزء ہے
موت و حیات حکمت ہیں
رنگ و نسل حکمت سے ہے
سکون کا ادراک وہی کر سکے گا جو اذیت سے گذرا ہو
یہاں عقلمند زیر سے بھی فائدہ اٹھا لیتا ہے
شکوے شکایات اور چھوٹی موٹی لڑائیوں جھگڑوں لگائیوں بجھائیوں سے صرفِ نظر کریں اور دنیا کی ہر شے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں
حکیمِ مطلق جل جلاله کی کیسی عظیم شان ہے کہ قتل و غارت میں بھی حکمتیں ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top