عربی زبان سے عورت کی دلچسب فضیلت

المزاح_و_الظرافت 47

ایک عربی محقق کہنے لگا کہ عربی زبان میں تاء تانیث ساکنہ ہوتی ہے اور اس کا محلِ اعراب بھی نہیں ہوتا
یہ ایسا کیوں ہے
ایک طویل عرصہ اس سوال نے مجھے الجھا کر رکھا
پھر ایک دن مجھے عرب کے مشہور شاعر احمد شوقی کا قصیدہ ملا
اپ بھی پڑھیں اور لطف اٹھائیں
جس میں اس نے مذکر کو دیوار کے ساتھ لگا کے مونث کی شان بیان کی ہے

الحرف بمحدوديته ذكر
واللغة بشمولها أنثى
حرف اپنی محدود تعداد کے ساتھ مذکر ہے جبکہ لغت ساری کی ساری مؤنث ہے

والحب بضيق مساحته ذكر
والمحبة بسموها أنثى
لفظِ حب اپنی مساحت کے ساتھ مذکر جبکہ لفظ محبت اپنی بلندی کے ساتھ مونث ہے

والسجن بضيق مساحته ذكر
والحرية بفضائها أنثى
لفظِ سجن (قید خانہ) مذکر جبکہ لفظِ حریت (آزادی) مؤنث ہے

والبرد بلسعته ذكر
والحرارة بدفئها أنثى
لفظِ برد (ٹھنڈک) اپنے زہر کے ساتھ مذکر ہے
جبکہ حرارت (گرمائش) اپنی نرماہٹ کے ساتھ مؤنث ہے

والجهل بكل خيباته ذكر
والمعرفة بعمقها أنثى
لفظِ جہل (جہالت) اپنے تمام نقصان کے ساتھ مذکر جبکہ معرفت (علم) اپنی گہرائی کے ساتھ مؤنث ہے

والفقر بكل معاناته ذكر
والرفاهية بدلالها أنثى
فقر (تنگدستی) اپنی تمام تھکان کے ساتھ مذکر ہے جبکہ بھلائی اپنے تمام نشانوں کے ساتھ مؤنث ہے

والجحيم بناره ذكر
والجنة بنعيمها أنثى
جحیم (جہنم) اپنی آگ کے ساتھ مذکر ہے جبکہ جنت اپنی نعمتوں کے ساتھ مؤنث ہے

والظلم بوحشيته ذكر
والعدالة بميزاتها أنثى
ظلم (زیادتی) اپنی وحشت کے ساتھ مذکر ہے جبکہ عدالت اپنی انفرادیت کے ساتھ مؤنث ہے

والتخلف برجعيته ذكر
والحضارة برقيها أنثى
تخلف (ترقی کی راہ سے پلٹنا) اپنی رجعت کے ساتھ مذکر ہے جبکہ تہذیب اپنی ترقی کے ساتھ مؤنث ہے

والمرض بذله ذكر
والصحة بعافيتها أنثى
مرض (بیماری) اپنی ذلت کے ساتھ مذکر ہے جبکہ صحت اپنی عافیت کے ساتھ مؤنث ہے

والموت بحقيقته ذكر
والحياة بألوانها أنثى
موت اپنی حقیقت کے ساتھ مذکر ہے جبکہ حیات (زندگی) اپنے رنگوں کے ساتھ مؤنث ہے

وہ محقق کہنے لگا
تب مجھے معلوم ہوا کہ تاءِ تانیث تو زندگی بخشتی ہے
اگرچہ یہ ساکن ہے محلِ اعراب نہیں ہے مگر زندگی رنگ اسی ساکن اور بے محلِ اعراب والی تاء سے ہیں

اسی کو اردو شاعر نے یوں کہا

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top