الحب_و_العشق 45
کون کس سے کیوں محبت کرتا ہے
مولا علی کی طرف منسوب قول ہے
إنَّ الله يقذف الحب في قلوبنا فلا تسأل مُحبًا لماذا أحببت
اللہ تعالی ہمارے دلوں میں محبت ڈالتا ھے
تو تم کسی محبت کرنے والے سے یہ مت پوچھو کہ تم کس لیئے محبت کرتے ہو
یعنی یہ نہ کہا جائے کہ تمہیں مجھ سے کس وجہ سے محبت ھے ؟
کیوں محبت ھے ؟
کیا خاص بات ھے مجھ میں ؟
وغیرہ وغیرہ
بلکہ محبت روح کی شناسائی کا نام ھے
اس کے لیئے کسی بھی ظاہری وجہ کی حاجت نہیں ہوتی
بعض اوقات سیاہ سفید سے اور سفید سیاہ محبت کر بیٹھتا ھے
کیونکہ رنگ صرف جسموں کا ہوتا ھے روحوں کا رنگ ایک سا ہی ہوتا ھے
ارسطو کا کہنا ہے
میں نے کوے اور کبوتر کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھا تو سوچ میں پڑ گیا کہ یہ ساتھ کیوں بیٹھے ہیں حالانکہ کوا الگ جنس رکھتا ھے اور کبوتر الگ جنس کا ہے
پھر جب وہ دونوں اڑے تو معلوم ہوا کہ دونوں لنگڑے ہیں
ان دونوں کے لنگڑا پن نے ان کو ایک ساتھ جمع کر دیا ہے دونوں کے درمیان صرف لنگڑا پن کی وجہ سے کشش پیدا ہوگئی ہے
اھل عرب کہتے ہیں
الجنس یمیل الی الجنس
جنس اپنے جیسی جنس کی طرف ہی مائل ہوتی ہے
\مولا علی کی بارگاہ میں کچھ لوگ دوڑتے آئے کہ ہمارا چھ سات ماہ کا بچہ چھت پہ چڑھ گیا ھے جب ھم اس کو پکڑنے کو دوڑتے ہیں تو وہ آگے کی طرف بھاگتا ھے جب رکتے ہیں تو وہ بھی رک جاتا ھے ہمیں ڈر ہے کہ وہ نیچے گرجائے گا
مولا علی نے فرمایا کہ تم اپنے ساتھ کوئی بچہ لے جاو جب وہ اسکو دیکھے گا تو اسکی طرف دوڑے گا
کیونکہ جنس اپنی جنس کی طرف مائل ہوتی ہے
ارسطو اپنے مطب میں پہنچا اور خادم کو کہنے لگا کہ فلاں معجون مجھے کھلاؤ
خادم نے کہا جناب وہ تو پاگلوں کی دوائی ہے
ارسطو نے کہا
راستے میں آتے وقت ایک پاگل شخص آکر میرے گلے لگ گیا تھا
میرے اندر کچھ پاگل پن کے جراثیم ہیں اسی لئیے وہ مجھ سے آکر گلے لگ گیا تھا
لہذا اگر کوئی آپکی طرف مائل ہو تو یقین کیجے کہ آپ کے اور اس کے درمیان کوئی نہ کوئی مماثلت , مشابہت, مجانست, مطابقت ضرور ہوتی ہے
کوئی ایک جیسی عادت کوئی مشترک شے ضرور ہے جس نے آپکی طرف کھینچا ہے
محبت ظاہری طور پر بے سبب ہوتی ہے مگر باطنی طور پر کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے
_پیشہ,شکل و صورت,جنسیت, صلاحیت,مقصد, عادت, ان میں سے کوئی بھی ایک شے ہونا محبت ہونے کا سبب بن سکتا ہے_
اور اگر بظاہر کوئی سبب نہ ہو تو روح کی روح سے پہچان اہم ترین سبب ہے
جیسا کہ حدیث پاک میں آیا ہے
ان الاوراح جنود مجندۃ وما تعارف اءتلف فما تناکر اختلف
روحیں لشکر کی صورت میں جمع ہیں جس کی وہاں پہچان ہوئی یہاں باہم الفت ہوگئی
اور جس کی وہاں پہچان نہ ہوئی یہاں بھی انجان ہیں
{ مسلم شریف }
یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھار ہم ایسے شخص سے بہت انسیت محسوس کر رہے ہوتے ہیں جس کو زندگی میں پہلی بار دیکھا ہوتا ہے
اب یکطرفہ محبت کیا ہے اس کے اسباب مجھے معلوم نہیں ہوسکے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
